جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار استغفار کرتے اور اس کے بعد فرماتے: « اے اللہ! تُو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے۔ تُو صاحبِ عظمت و برکت ہے اے جلال والے اور عزت بخشنے والے! »۔ ولید نے کہا: میں نے اوزاعی سے پوچھا: استغفار کیسے کیا جائے؟ انھوں نے کہا: استغفر اللہ، استغفر اللہ کہہ لو۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 591) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


بندے کو چاہیے کہ وہ اپنی عبادت پر غرور ہرگز نہ کرے کیونکہ خواہ وہ کتنی ہی محنت وکوشش کرلے، اس کی عبادت میں شیطان کا کچھ نہ کچھ دخل ضرور رہتا ہے۔ اسی لیے عبادت کے فوراً بعد استغفار مشروع کیا گیا ہے، تاکہ عبادت میں جو کمی یا خلل رہ جائے، اس کی تلافی ہوسکے، جیساکہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو تین بار فرماتے: استغفر الله، استغفر الله، استغفر الله۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی وعبودیت کے اظہار اور اُمت کی تعلیم کے لیے فرماتے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ وہ استغفار کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے، اُس سے گڑگڑا کر مانگتے کیونکہ وہی ہر عیب سے پاک ذات ہے اور اُسی سے دین ودنیا کی سلامتی طلب کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی جلالتِ قدر، عظمتِ شان، قدرت واقتدار، سخاوت اور انعام کا اعتراف فرماتے۔
اس حدیثِ مبارکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی عاجزی اور کامل بندگی کا بیان ہے، چنانچہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے پچھلے اور آئندہ گناہ معاف فرما دیے تھے، پھر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم استغفار فرماتے تھے۔
اسی طرح یہ بھی بیان ہوا کہ عبادت کے بعد استغفار کرنا مشروع ہے۔
علاوہ ازیں یہ کہ استغفار صرف گناہوں کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ عبادت میں جو ممکنہ نقص، کوتاہی، یا اخلاص کی کمی رہ گئی ہو، اُس کی تلافی کے لیے بھی مشروع ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔