اے اللہ کے رسول! جب اللہ تعالیٰ اہلِ زمین پر اپنا عذاب نازل کرے گا تو ان میں نیک لوگ بھی ہوں گے تو کیا وہ بھی (بُرے لوگوں کے ساتھ) ہلاک ہوجائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جب اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں پر اپنا عذاب نازل کرتا ہے تو ان میں موجود نیک لوگ بھی اس عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، لیکن ان کا حشر ان کی نیتوں اور اعمال کے مطابق ہو گا۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح ابن حبان (حدیث نمبر 7314) اور شعب الایمان از بیہقی (حدیث نمبر 7193) میں مروی ہے۔
نیز دیکھیے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ (حدیث نمبر 1622) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 11)
حدیث کی مختصر وضاحت
اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی کو دوسرے کے عمل کی پاداش میں سزا نہیں دیتا، جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ہر ایک جان اپنے کیے کے بدلے گروی ہے۔‘‘ (المدثر: 38)
چنانچہ جب بندے کی نیت خالص ہو اور اس کا عمل درست ہو تو وہ آخرت میں فلاح پالیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اگر زمین پر اللہ کا عذاب نازل ہو اور اس میں نیک لوگ بھی موجود ہوں تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ ہلاک ہوجائیں گے؟
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو وہ نیک وبد سب کو گھیر لیتا ہے۔ نیک لوگوں کی ہلاکت فاسقوں کی صحبت اور اُن سے میل جول کی نحوست کے سبب ہوتی ہے، البتہ پھر قیامت کے دن سب کا انفرادی حساب ہوگا اور ہر شخص کو اُس کی نیت اور عمل کے مطابق جزا یا سزا دی جائے گی، چنانچہ جو نیک ہوگا، وہ جنتی ہوگا اور جو فاسق ہوگا، وہ جہنمیوں میں شمار ہوگا۔
اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ ظالموں، سرکشوں اور عادی گناہ گاروں سے دُور رہنا چاہیے، تاکہ معاشرہ فساد سے محفوظ رہے کیونکہ فساد انجامِ بد کے بڑے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔
نیز اس بات کی وضاحت بھی ہوتی ہے کہ کسی مصیبت وپریشانی میں (نیک وبد) سب کے اکٹھے گھر جانے كا معنى ہر گز یہ نہیں ہے کہ سب جزامیں بھى برار ہوں گے، بلکہ ہر ایک کا بدلہ اُس کی نیت اور عمل کے مطابق ہوگا۔
اسی طرح حدیث مبارک میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ عذابِ باری تعالیٰ مومنوں کے لیے تزکیہ وتطہیر کا ذریعہ ہوتا ہے، جب کہ فاسقوں کے لیے اللہ کی سزا اور انتقام بن کر آتا ہے۔