بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو عذاب ان سب لوگوں پر آتا ہے جو اس قوم میں ہوتے ہیں، پھر انھیں ان کے اعمال کے مطابق اُٹھایا جائے گا۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صحیح بخاری (حدیث نمبر 7108) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 2879) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خبر دیتے ہیں کہ جب کسی قوم پر عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، یعنی نیکوکاروں کو بھی اور بدکاروں کو بھی۔ — یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عدل کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ خبث پھیل چکا ہوتا ہے، معاصی غالب آچکی ہوتی ہیں اور لوگ منکرات وبُرائیوں پر نکیر کی بجائے خاموشی اختیار کرلیتے ہیں، جیساکہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: «کیا ہم ہلاک ہوں گے، حالانکہ ہم میں نیک لوگ موجود ہیں؟» نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ہاں، جب خبث زیادہ ہوجائے۔»
پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نیک وصالح لوگ قیامت کے دن اپنے نیک اعمال پر اُٹھائے جائیں گے اور ہر شخص کو اس کے عملِ — خیر یا شر — کے مطابق بدلہ دیا جائے گا، چنانچہ صالح اپنی نیکی پر اٹھایا جائے گا اور عزت پائے گا، جب کہ فاجر اپنے فجور پر اُٹھایا جائے گا اور ذلیل کیا جائے گا۔
نیکوں کی ہلاکت پر اعتراض وارد نہیں ہوتا کیونکہ ان کے نیک اعمال کا بدلہ آخرت کے لیے محفوظ ہے کیونکہ جو بلا وآزمائش انھیں دنیا میں پہنچتی ہے، وہ ان کے گناہوں کا کفارہ اور ان کے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے۔
اس حدیث مبارک میں ظالموں اور فاجروں سے دوری اختیار اور ان سے گریزپا رہنے کی ترغیب ہے، تاکہ معاشرہ فساد سے محفوظ رہے کیونکہ یہ فساد ہی ہے جو بُرے انجام کے بڑے اسباب میں سے ہے۔
اسی طرح حدیث سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ مصیبت وآزمائش میں اکٹھے مبتلا ہونے سے جزا میں برابری لازم نہیں آتی، بلکہ ہر شخص اپنی نیت پر اُٹھایا جائے گا اور اپنے عمل کے مطابق بدلہ پائے گا۔
علاوہ ازیں حدیث میں یہ بھی ہے کہ عذاب مومنوں کے لیے تطہیر اور فاسقوں کے لیے انتقام ہوتا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔