رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (ہمیں برابر کھڑا کرنے کے لیے) ہمارے کندھوں کو ہاتھ لگا کر فرماتے: «برابر ہوجاؤ اور جداجدا کھڑے نہ ہو کہ اس سے تمھارے دل باہم مختلف ہو جائیں۔ مجھ سے قريب تم میں سے وہ لوگ رہیں جو اہل عقل ودانش ہیں۔ ان کے بعد وہ جو (دانش مندی میں) ان کے قریب ہوں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں۔»
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «آج تم ایک دوسرے سے شدید ترین اختلاف رکھتے ہو!»
یہ حدیث بروایت حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 432) میں مروی ہے۔
حدیث کی مختصر وضاحت
صفوں کو برابر رکھنا تکمیلِ نماز اور بکمال اقامتِ صلاۃ کا حصہ ہے۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف خود صفوں کی درستی کا اہتمام فرماتے اور اس کا حکم دیتے، بلکہ صفوں کی درستی میں اختلاف سے خبردار بھی فرماتے کیونکہ صفوں میں جسمانی اختلاف دلوں کے اختلاف کو جنم دیتا ہے، محبت کم ہوتی ہے اور بغض ونفرت بڑھ جاتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی اسی سنت پر عمل کیا، چنانچہ وہ حکم دیتے تو ان کے حکم کی تعمیل میں کچھ لوگ صفیں درست کرواتے اور تب تک تکبیر نہ کہتے جب تک صفیں برابر نہ ہوجاتیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہلِ علم وعقل کو حکم دیتے کہ وہ پہلی صف میں آپ کے پیچھے ہوں کیونکہ وہ امام کو کسی پیش آمدہ معاملے میں تنبیہ کرنے کے زیادہ اہل، امام کى نماز کے اوصاف كو بيان کرنے میں زیاده ضبط واتقان والے اور امام کی جانشینی کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں۔
پھر حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ صفوں میں آج کا اختلاف صحابہ کے زمانے سے زیادہ بڑھ گیا ہے جو دلوں کے اختلاف اور تفرقے کا سبب بنتا ہے۔
حدیث مبارک میں نماز کی عظمتِ شان اور صفیں درست کرنے کی تاکید بیان ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں یہ بیان ہوا کہ ظاہری اختلاف دلوں کے اختلاف کا سبب بنتا ہے۔ اسی طرح اس میں اکابر اور اہلِ علم وفضل کو امام کے پیچھے کھڑے ہونے کی ترغیب دی گئی ہے۔