جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«اگر کوئی شخص وضو کرکےمسجد کی طرف جائے اور نماز کا انتظار کرے تو اس کے (اعمال کو) لكھنے والا یا اس کے(اعمال کو) لکھنے والے دونوں (یعنى کراماً کاتبین) اس کے مسجد کی طرف اُٹھائے گئے ہر قدم کے بدلے دس نیکیاں لکھتے ہیں۔ جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا ہو، وہ گویا عبادت میں مشغول ہے۔ اور اپنے گھر سے نکلنے سے لے کر گھر واپس لوٹنے تک اسے نمازیوں میں شمار کیا جاتا ہے»۔


یہ حدیث بروایت حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 17440)، صحیح ابن خزیمہ (حدیث نمبر 1492) اور مستدرک حاکم (حدیث نمبر 766) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 434) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 298).


حدیث کی مختصر وضاحت


تقرب الی اللہ کا باعث بننے والے عظیم ترین اعمال میں سے ایک عمل مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا ہے، اس لیے کہ یہ ایک عظیم شعار ہے جس کی فضیلت پر نصوص دلالت کرتی ہیں اور اس کے ذریعے درجات کی بلندی اور گناہوں کے مٹنے کی تصریح کرتی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا ہے کہ جو شخص باوضو ہو کر نماز کی نیت سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے میں کئی گنا، یعنی کم سے کم دس نیکیاں لکھتا ہے۔ اسی طرح جو شخص نماز کھڑی ہونے سے پہلے مسجد میں آکر بیٹھتا ہے اور نماز کا انتظار کرتا ہے، — خواہ اس دوران وہ قرآن کی تلاوت کرے، ذكر واذكار کرے، یا نفل نماز ادا کرے تو اسے نماز پڑھنے والے کااجر ملتا ہے، بلکہ جب وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے، تب سے لے کر اپنے گھر لوٹنے تک اسے نمازیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کی کامل شان میں سے ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو عبادات کی ترغیب دی ہے، ان کی نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھایا، نماز کی طرف چلنے، مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھنے اور واپس جانے کے عمل کو بھی ایسی عبادت بنادیا جس پر اجرِ عظیم عطا ہوتا ہے۔
اس حدیث مبارک میں مسجد میں نماز پڑھنے اور نماز کے لیے جلدی آنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اسی طرح مسجد کی طرف اٹھنے والے قدموں سے نیکیاں کئی گنا بڑھ جاتی اور گناہ معاف ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بیان ہوا کہ نماز کا انتظار کرنے والا اجر میں نمازی کے مثل ہوتا ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت اطاعت گزاروں کے لیے بہت وسیع ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔