جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے، جس کو لوگ ’’عتمہ‘‘ کہتے ہیں، فراغت کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتا کرتے تھے۔ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور وتر ایک رکعت پڑھتے۔ جب موذّن صبح کی نماز کی اذان کہہ کر خاموش ہوجاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صبح واضح ہوجاتی اور موذّن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر دو ہلکی رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں کروٹ لیٹ جاتے، حتیٰ کہ موذّن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اقامت (کی اطلاع دینے) کے لیے آجاتا۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح مسلم (حدیث نمبر 736) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے بڑھ کر اپنے رب کے عبادت گزار اور قیام اللیل کے سب سے زیادہ خواہش مند تھے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور بعد کے تمام گناہوں کو معاف فرمادیا تھا!
اس حدیث میں اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ تہجد کے اوصاف میں سے ایک وصف کی طرف اشارہ فرمایا ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز مختلف انداز میں ہوتی تھی۔ انھوں نے بیان فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں ادا فرماتے، ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے، پھر ایک رکعت وتر پڑھتے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق ہے: ’’رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔‘‘
پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ جب موذّن فجر کی اذان مکمل کرلیتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا، تاکہ آپ کو فجر کا وقت شروع ہونے کی اطلاع دے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو طلوعِ فجر کا یقین ہوجاتا تو آپ دو ہلکی رکعتیں (سنتِ فجر) ادا فرماتے، حتیٰ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی خفت (ہلکے پن) پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا (جیساکہ صحیح بخاری میں ہے): کیا انھوں نے سورت ام الکتاب (سورت فاتحہ) بھی پڑھی!
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، تاکہ قیام اللیل کی مشقت کے بعد کچھ آرام فرما لیں، یہاں تک کہ موذّن دوبارہ آکر اطلاع دیتا کہ لوگ نماز کے لیے جمع ہوچکے ہیں۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں نمازِ فجر کا فریضہ ادا کرانے کے لیے باہر تشریف لاتے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔