«ہر مرنے والے کا اعمال نامہ بند ہو کر سر بمہر کردیا جاتا ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کے راستے میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہوجائے کہ اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہے گا اور وہ قبر کی آزمائش سے محفوظ رہے گا۔»
یہ حدیث بروایت حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 23951)، سنن ابوداود (حدیث نمبر 2500) اور سنن ترمذی (حدیث نمبر 1621) میں مروی ہے۔ اور الفاظ سنن ترمذى کے ہیں۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4562) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 1218)
حدیث کی مختصر وضاحت
اللہ کے راستے میں سرحدوں کی نگرانی کرنا، یعنی رباط عظیم ترین اعمال میں سے ہے جس کا اجر بہت بڑا ہے کیونکہ اس کے ذریعے اللہ کے کلمے کو سربلند کیا جاتا ہے اور اس کے دین کو دنیا میں پھیلایا جاتا ہے۔
رباط کی عظمت کی دلیل یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ فوت ہوتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے اور موت کے وقت اس کا نامۂ اعمال لپیٹ دیا جاتا ہے۔ اب نہ اس کے اجر میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ کمی، مگر جو شخص اللہ کی راہ میں رباط (سرحدی پہرہ داری) کرتے ہوئے فوت ہو تو اس کا عمل منقطع نہیں ہوتا، بلکہ دنیا میں جو نیکیاں وہ کرتا رہا، وہ جاری رہتی ہیں، بلکہ ان میں اضافہ ہوتا ہے اور اُس کے اجر میں قیامت تک بڑھوتری ہوتی رہتی ہے۔
ایسے شخص کو دہرا اجر ملتا ہے؛ ایک اُس عمل کا جو وہ اپنی زندگی میں وہ کرتا رہا اور جو مرنے کے بعد بھی جاری رہا۔ اور دوسرا اُس اجر کا جو بڑھتا اور ترقی پاتا رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رباط، یعنی اللہ کے دین کی خاطر سرحدوں کی حفاظت درحقیقت دین کی حرمت وتقدس کی حفاظت ہے اور اس کا فائدہ تمام مسلمانوں کو پہنچتا ہے۔
مزید یہ کہ ایسا شخص قبر کی آزمائش سے بھی محفوظ رہتا ہے، چنانچہ فرشتے اُس سے ویسے سوال نہیں کرتے جیسے دوسرے فوت شدگان سے کرتے ہیں، بلکہ اللہ کی راہ میں اس کی موت ہی اس کے ایمان کی سچی گواہ بن جاتی ہے۔
تو یہ وہ عظیم فضیلت ہے جو ایک مرابط، یعنی محافظ کو دوسروں پر حاصل ہوتی ہے۔ اس کے عمل کا جاری رہنا اور اس میں بڑھوتری اس بات کی علامت ہے کہ یہ عمل خاص شان اور مرتبے کا حامل ہے۔