«جس نے راستے سے (ضرر کا باعث بننے والا) ایک پتھر (بھی) ہٹایا، اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔ اور جس کے پاس (قیامت کے روز) ایک نیکی بھی موجود ہوئی، وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔»
یہ حدیث بروایت حضرت معاذ رضی اللہ عنہ المعجم الکبیر از طبرانی (حدیث نمبر 198) اور شعب الایمان از بیہقی (حدیث نمبر 10660) میں مروی ہے۔ اس سے ملتی جلتی حدیث مسند احمد (حدیث نمبر 27479) میں بھی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 6265) اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ (حدیث نمبر 2306).
حدیث کی مختصر وضاحت
ایسے اعمال جن کے ذریعے اللہ نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اُن میں سے وہ اعمال بھی ہیں جن کا نفع دوسروں تک پہنچتا ہے، بلکہ یہ اعمال سب سے بہتر اور سب سے عظیم اعمال میں سے ہیں کیونکہ یہ انسان کے مرنے کے بعد بھی اُس کے لیے جاری رہتے ہیں۔ انھی اعمال میں سے وہ عمل بھی ہے جس کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے کہ جس نے راستے سے پتھر ہٹایا، اللہ تعالیٰ اُس کے لیے اس کے بدلے ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔ اور جس کی نیکی قبول کرلی گئی اور اُسے ایسے عمل کی توفیق دے دی گئی جو اللہ کو راضی کرتا ہے تو یہ اللہ کے فضل اور اس کے فرماں بردار بندوں کے اکرام کے طور پر اس بندے کے لیے جنت میں داخلے کا سبب بنے گا۔
اس حدیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ چھوٹے اور آسان اعمال جن پر بہت سے مسلمان توجہ نہیں دیتے، جنت میں داخلے کا سبب بن سکتے ہیں، بالخصوص جب ان کا فائدہ عام ہو۔
اسی طرح اس حدیث میں مسلمانوں کے راستے سے اذیت دہ چیز ہٹانے کی ترغیب دی گئی ہے اور اُن کے راستے میں باعثِ تکلیف رکاوٹ پیدا کرنے سے خبردار کیا گیا ہے کیونکہ یہ اہل اسلام کے لیے ضرر کا باعث بنتی ہے (جو قطعاً جائز نہیں ہے)۔