جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«حاجی کا اونٹ جب جب پاؤں اٹھاتا ہے، یا ہاتھ (يعنى اگلے پاؤں) رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کى وجہ سے حاجی کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، یا اس کا کوئی ایک گناہ مٹا دیتا ہے، یا اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما شعب الایمان از بیہقی (حدیث نمبر 3821) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 5596) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 3821).


حدیث کی مختصر وضاحت


حج اُن عظیم عبادات میں سے ہے جن سے بندہ اپنے رب کا تقرب حاصل کرتا ہے۔ حج کی فضیلت اور اس کی ترغیب میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ حاجی کی سواری جب بھی حج کے مقدس مقامات کی طرف سفر میں کوئی قدم اٹھاتی ہے تو ہر قدم کے ساتھ اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے، یا ایک گناہ مٹایا جاتا ہے، یا اس کا ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے۔
اور یہاں ’’یا‘‘ تنوّع کے لیے ہے، نہ کہ اختیار کے لیے، یعنی عبادت کے لیے کی گئی مشقت ومحنت اور خلوصِ نیت کے مطابق حاجی کو بیک وقت یہ تینوں اجر بھی دیے جا سکتے ہیں: (۱) نیکیوں کا اضافہ، (۲) گناہوں کی معافی (۳) اور درجات کی بلندی۔
اس مفہوم کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے بھی تقویت ملتی ہے: {اور ہم نے اسے ایک لاکھ کی طرف بھیجا، یا (بمعنى بلکہ یا اور)اس سے بھى زیادہ ان کى تعداد تھى }] (الصافات: 147) [(تو "يا"یہاں اور یا بلکہ کے معنى میں ہے)
اونٹ کا ذکر بطور خاص اس لیے کیا گیا کیونکہ اس زمانے میں زیادہ تر لوگوں کی سواری یہی تھی، جب کہ اس کے معنی میں ہر وہ ذریعہ شامل ہے جس پر حاجی سوار ہو، خواہ وہ موجودہ دور کی جدید سواریاں کیوں نہ ہوں! کیونکہ اعتبار مسافت طے کرنے کا ہے، نہ کہ سواری کی نوعیت کا۔ اور جتنی مسافت زیادہ ہو، اجر بھی اسی قدر زیادہ ہوتا ہے، جیسے: نماز ادا کرنے کے لیے پیدل چل کر مسجد جانے والا۔
اس حدیث مبارک میں حج کی فضیلت اور اس کی ترغیب بیان ہوئی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور امت محمدیہ علی صاحبہا الصلاۃ والسلام پر اس کے عظیم کرم کا بیان ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔