جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«اگر اسے زمانۂ جاہلیت کی ناپاکیوں نے نہ چھوا ہوتا تو کوئی بھی جسمانی معذوری کا شکار اُسے چھوتا تو شفا پالیتا۔ اور زمین پر جنت کی چیزوں میں سے اس کے سوا کچھ نہیں ہے»۔


یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 9230) اور مصنف عبدالرزاق (حدیث نمبر 8951) میںموقوفا اور مرفوعا دونوں طرح مروی ہے۔
علاوہ ازیں المعجم الکبیر از طبرانی (حدیث نمبر 11314) میں بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوع مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


حجرِ اسود ایک بابرکت پتھر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عزت بخشی اور اس میں وہ فضیلتیں رکھی ہیں جو کسی اور کو حاصل نہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں (شعائر) میں سے ہے۔ طواف اس سے شروع کیا جاتا ہے اور اس کا استلام (چھونا) اور بوسہ لینا مشروع ہے۔
حجر اسود کی فضیلت اور مرتبے کے بارے میں بہت سی نصوص آئی ہیں۔ ان میں سے وہ بھی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ اگر زمانۂ جاہلیت کی نجاستیں اسے نہ پہنچی ہوتیں، کہ جب مشرکین شرك اور گناہوں میں ڈوبے ہوئے اس کے قریب آتے، اسے چھوتے اور برہنہ ہوکر طواف کرتے تھے، تو اس کی ظاہری برکت زائل نہ ہوتی،
حتیٰ کہ جو شخص بھی کسی جسمانی معذوری کا شکار ہوتا، جیسے: کوڑھ، برَص، یا نابیناپن۔ اگر وہ اسے چھوتا تو اللہ کے اِذن سے شفایاب ہوجاتا۔ لیکن گناہوں نے لوگوں کو دنیا میں اس کی کامل برکت کے ظہور سے محروم کردیا اور جو کچھ باقی رہ گیا ہے، وہ آخرت میں اس کے اثرات کی امید ہے، جیسے: گناہوں کا مٹ جانا اور جنھوں نے حق (خلوصِ نیت) کے ساتھ اسے چھوا، ان کے بارے میں اس کا گواہی دینا۔
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ زمین پر جنت کی کوئی چیز نہیں ہے، سوائے حجرِ اسود کے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ نہ تو بعید ہے اور نہ محال کہ جنت کا ایک پتھر زمین پر اُتاردے۔
اس حدیث مبارک میں حجرِ اسود کی فضیلت کا بیان ہے کہ یہ زمین کے تمام پتھروں سے زیادہ اشرف ومعزز پتھر ہے۔ اگر اسے جاہلیت کی نجاستیں نہ پہنچتیں تو یہ آج بھی شفا کا سبب وذریعہ ہوتا (جیسے دوا شفا کا سبب وذریعہ ہے)۔ نیز اس میں اشارہ ہے کہ گناہ برکت کو زائل کردیتے ہیں، جیسے: شبِ قدر (کی تعیین) اُس وقت اٹھالی گئی جب دو صحابی رضی اللہ عنہما باہم تکرار وجھگڑے میں پڑگئے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔