جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«جسے جوتے نہ ملیں، وہ موزے پہن لے اور جسے تہبند نہ ملے، وہ شلوار پہن لے»۔


یہ حدیث بروایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 1179) میں مروی ہے۔
نیز بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صحیح بخاری (حدیث نمبر 5804) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1178) میں مروی ہے، لیکن اس کے الفاظ ہیں: ’’جسے جوتے میسر نہ ہوں تو وہ (حالتِ احرام میں) موزے پہن لے۔‘‘


حدیث کی مختصر وضاحت


احرام کی حالت میں جن چیزوں سے بچنا واجب ہے، اُن میں موزے اور شلوار پہننا بھی شامل ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے مکلف لوگوں کی مختلف حالت پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان پر آسانی اور نرمی فرمائی ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس جوتے نہ ہوں، وہ موزے پہن سکتا ہے، تاکہ مشقت سے بچا جاسکے۔
حدیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹنے کا ایسے شخص کو نہیں دیا جائے گا۔ اور یہی جمہور علماء کی رائے ہے، البتہ صحیحین میں حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنہما کی روایت ہے: «اور احرام باندھنے والا موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ دے۔» جسے امام احمد رحمہ اللہ نے ظاہر پر محمول کیا ہے۔ یہی رائے زیادہ محتاط بھی ہے کیونکہ اس صورت میں علماء کے اختلاف سے نکلنے کی راہ ہے۔
اسی طرح اس حدیث مبارک میں یہ رخصت بھی دی گئی ہے کہ جس کے پاس اِزار (اَن سلی چادر) نہ ہو، وہ شلوار (یا پاجامہ) پہن سکتا ہے کیونکہ وہ جسم کے نچلے حصے میں پہنا جاتا ہے۔
علمائے کرام رحمہم اللہ نے احرام باندھنے والے کے لیے سلے ہوئے کپڑے پہننے کی ممانعت کی کئی حکمتیں ذکر کی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ بندہ اللہ کے سامنے عاجزی وانکساری کا مظاہرہ کرتا ہے، چنانچہ احرام باندھنے والا خواہ مال دار ہی کیوں نہ ہو، سادہ لباس پہنتا ہے، تاکہ وہ اپنے رب کے سامنے عجز وانکسار کا اظہار کرے۔ اسی طرح اس سے مسلمانوں کی وحدت ومساوات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ سب ایک جیسے لباس میں ہیں۔ علاوہ ازیں یہ سادہ لباس انسان کو اس کے انجام کی یاددہانی بھی کراتا ہے کیونکہ وہ دنیا سے اسی طرح ایک سفید کفن میں رخصت ہوتا ہے۔
اس حدیث مبارک میں اس چیز کا بیان ہے کہ احرام کی حالت میں سلے ہوئے کپڑے پہننا ممنوع ہے، یعنی ایسا لباس جو جسم کے مطابق سلائی کیا گیا ہو اور ایسے موزے یا جوتے جو ٹخنوں کو چھپاتے ہوں، اس حالت میں ممنوع ہیں۔ علاوہ ازیں حدیث مبارک میں شریعت کی آسانی اور نرمی کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکلف بندوں کے لیے سہولت پیدا فرمائی ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔