«جس نے ذکر کی مجلس میں کہا: ’’ 'سبحان اللہ وبحمدہ، سبحانک اللهم وبحمدک، لا إله إلا أنت، أستغفرک وأتوب إلیک‘‘ ( اللہ پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ۔ پاک ہے تُو اے اللہ اپنی تعریف کے ساتھ۔ تیرے سوا کوئی حقیقى معبود نہیں۔ میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری جناب میں رجوع کرتا ہوں) تو یہ اس مجلس پر مہر کے مانند ہو جاتا ہے ۔ اور جس نے اسے کسی فضول ولغو باتوں کی مجلس میں کہا تو یہ اس کے لیے (گناہوں سے) کفارہ بن جاتا ہے»۔
یہ حدیث بروایت حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سنن کبریٰ از نسائی (حدیث نمبر 10185)، مستدرک حاکم (حدیث نمبر 1970) اور المعجم الکبیر از طبرانی (حدیث نمبر 1586) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 6430) اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ (حدیث نمبر 81)
حدیث کی مختصر وضاحت
شاید ہی کوئی مجلس ایسی ہو جو لغو، غفلت، یا ناپسندیدہ گفتگو سے خالی ہو۔ تو نبوی راہ نمائی آئی، تاکہ مسلم شخص کو ایک ایسا ذکر سکھایا جائے جو مجلس سے اٹھتے وقت کہے اور وہ اس میں ہونے والی کوتاہی یا خطا کا کفارہ بن جائے۔
یہ ذکر اللہ کی تعظیم اور اس کی پاکی پر مشتمل ہے۔ اس میں اس کی تعریف وثنا ہے، توحیدِ خالص اور اس کے ہر شریک کی نفی ہے۔ پھر بخشش کی طلب ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ انسان نے اپنے مطالبات (یعنی مغفرت) سے پہلے ان کے اسباب (یعنی تسبیح، تحمید اور توحید) کو مقدم رکھا ہے۔ اسی لیے ان کلمات پر بڑا اجر مترتب ہوتا ہے۔ اگر یہ ذکر کسی مجلسِ ذکر میں کیا جائے تو وہ اس مجلس کے لیے گویا مہر ثابت ہوتا ہے جو اسے اللہ کے ہاں مقبول بناتا ہے۔ اگر یہ ذکر کسی لغو مجلس میں کیا جائے تو وہ اس میں ہونے والی لغزشوں اور گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
چنانچہ مسلمان کو چاہیے کہ ہر مجلس کے اختتام پر اس دعا کا اہتمام کرے کیونکہ شاذ ونادر ہی کوئی مجلس ایسی ہوتی ہے جو لغو باتوں یا وقت کے ضیاع سے مکمل طور پر پاک ہو۔
حدیث مبارک کے ظاہری معنی سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر وہ گناہ بخش دیا جاتا ہے جس کا ارتکاب مجلس میں ہوا ہو، خواہ غیبت ہو یا چغلی۔ یا اس مغفرت سے مراد وہ گناہ ہیں جن کا تعلق مخلوق کے حقوق سے نہیں کیونکہ وہ عمومی مغفرت سے خارج سمجھے گئے ہیں۔ اسی طرح کبیرہ گناہوں کی معافی توبہ کے بغیر نہیں ہوتی، اِلا کہ اس ذکر کے ساتھ ندامت اور عدمِ تکرار کا عزم ہو تو وہ توبہ شمار ہوگی۔
حدیث مبارک میں اس ذکر کی فضیلت اور اس پر ہمیشگی کی ترغیب کا بیان ہے۔