«میری امت میں جاہلیت کے کاموں میں سے چار باتیں (موجود) ہیں، وہ ان کو ترک نہیں کریں گے: (۱) حسب (باپ دادا کے اصلی یا مزعومہ کارناموں) پر فخر کرنا۔ (۲) (دوسروں کے) نسب پر طعن کرنا۔ (۳) ستاروں کے ذریعے سے بارش مانگنا (یعنى بارش کو ستاروں كى طرف منسوب كرنا) (۴) اور نوحہ کرنا۔ اور فرمایا: نوحہ کرنے والی اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس کو اس حالت میں اُٹھایا جائے گا کہ اس (کے بدن) پر تارکول کا لباس اور خارش کی قمیص ہوگی»۔
یہ حدیث بروایت حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 934) میں مروی ہے۔
حدیث کی مختصر وضاحت
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت میں موجود جاہلیت کی بعض خصلتوں کا ذکر فرمایا ہے جو زمانۂ جاہلیت کے آثار کے طور پر باقی رہ گئی ہیں اور جنھیں لوگ مکمل طور پر ترک نہیں کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے چار اُمور کا ذکر فرمایا۔ یہ تذکرہ اِحصا، یعنی مکمل فہرست بتانے کے لیے نہیں، بلکہ ان اعمال کی سنگینی اور دلوں میں ان کی جڑوں کی گہرائی کو ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
(1) حسب پر فخر کا مطلب ہے کہ اپنے آباء واَجداد کی خوبیوں، کارناموں اور فضائل پر فخر کرنا، تاکہ خود کو افضل اور دوسروں کو کمتر ظاہر کیا جائے۔ یہ تکبر کی ایک مذموم صورت ہے جو تواضع کو ختم کردیتی ہے اور لوگوں کی تحقیر کا باعث بنتی ہے۔
(2) نسب پر طعن، یعنی دوسروں کے نسب میں عیب نکالنا، ان کے آباء واَجداد کو حقیر سمجھنا اور اپنے خاندان کو دوسروں پر ترجیح دینا۔ جیسے کہا جائے: فلاں بے نسلا ہے، یا وہ گھٹیا نسل کا ہے، یا ذلیل خاندان سے ہے۔ یہ ایک خطرناک بیماری ہے جو قبائلی تعصب کو ہوا دیتی ہے اور اسلام کے لائے ہوئے اُخوت اور مساوات کے اصول ومقاصد کو منہدم کردیتی ہے۔
(3) ستاروں کی نسبت سے بارش طلب کرنا۔ اگرچہ ’’استسقاء‘‘ کا مطلب بارش طلب کرنا ہے، لیکن یہاں مراد یہ ہے کہ بارش کو ستاروں کی طرف منسوب کرنا، خواہ عقیدہ ہو کہ بارش اصل میں اللہ ہی نازل فرماتا ہے۔ اہلِ جاہلیت اسی قسم کا اعتقاد رکھتے تھے، جیساکہ قرآنِ کریم میں ہے: {اور یقیناً اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے آسمان سے پانی اتارا ...تو وہ ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔} (العنکبوت: 63)
یعنی وہ مانتے ہیں کہ بارش اللہ ہی برساتا ہے، مگر نزولِ باراں کو ستارے کے وقت یا حرکت سے جوڑتے ہوئے اس چیز کو سبب مانتے ہیں جو درحقیقت کوئی سبب نہیں ہے۔ یہ شرکِ اصغر ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ ستارہ خود بارش برساتا ہے تو یہ شرکِ اکبر ہے جو انسان کو دائرۂ اسلام سے خارج کردیتا ہے کیونکہ اس نے اللہ کے فعل کو غیراللہ کی طرف منسوب کیا جو توحیدِ باری تعالیٰ کے یکسر منافی ہے۔
(4) نوحہ کرنا میت پر اس طرح غم کا اظہار کرنا ہے جو جزع وفزع کی بدترین صورت ہے کیوں کہ یہ اظہارِ غم کا طبعی طریقہ نہیں ہے، جیسے: چیخنا، چہرے یا بدن پر مارنا، میت کی صفات کو بلند آواز سے بیان کرنا اور ایسی فریادیں کرنا، جیسے: ہائے میرا سہارا! ہائے افسوس! ہائے پہاڑ جیسے شوہر! وغیرہ۔ یہ سب جملے اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر اعتراض کے مترادف ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردار فرمایا کہ اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کیے بغیر مرجائے تو قیامت کے دن اسے سخت عذاب دیا جائے گا، یعنی اللہ تعالیٰ اسے تارکول کا لباس پہنائے گا جو ایک سیاہ، بدبودار اور چپکنے والا مادہ ہے۔ یہ آگ کے عذاب کو اور بڑھا دیتا ہے۔ علاوہ ازیں اس پر خارش سے بھری ہوئی زرہ ہوگی۔ یہ سب اس فعل کی قباحت اور نفس ومعاشرے پر اس کے شدید اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
تو یہ خصلتیں اگرچہ جاہلیت کی باقیات ہیں، مگر آج بھی امتِ مسلمہ میں نظر آتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان سے مسلسل خبردار کیاجائے اور یاد دلایا جائے کہ اسلام ان تمام جاہلی عصبیتوں کو مٹانے، لوگوں کو صرف اللہ تعالیٰ سے جوڑنے اور یہ ثابت کرنے آیا ہے کہ برتری کا معیار نہ حسب ونسب ہے اور نہ شکل وصورت، بلکہ تقویٰ اور نیک اعمال ہی اصل فضیلت کا ذریعہ ہیں!