جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ احرام باندھنے والے شخص کو کس طرح کا کپڑا پہننا چاہیے؟ تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تم نہ کرتے پہنو، نہ عمامے باندھو، نہ پاجامے پہنو، نہ ٹوپى والى قمیص اور نہ موزے۔ لیکن اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزے پہن سکتاہے، بشرطیکہ ٹخنوں کے نیچے سے ان کو کاٹ لے۔ (اور احرام کی حالت میں) کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران یاوَرس لگا ہوا ہو»۔


یہ حدیث بروایت حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صحیح بخاری (حدیث نمبر 1542) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1177) میں مروی ہے۔
صحیح بخاری (حدیث نمبر 5804) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1178) میں یہ بروایت حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مروی ہے جس کے الفاظ ہیں: «اور جس کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے۔» اس میں موزوں کو کاٹنے کا ذکر نہیں ہے۔
اسی طرح صحیح بخاری کے ایک الفاظ (حدیث نمبر 1838) میں ہے: «عورت حالتِ احرام میں نہ نقاب اوڑھے اور نہ دستانے پہنے۔»


حدیث کی مختصر وضاحت


’’حج‘‘ اسلام کے نمایاں اور عظیم شعائر میں سے ایک شعار ہے۔ اس کے کچھ ارکان، واجبات اور محظورات (ممنوعات) ہیں۔
ان محظورات میں یہ چیزیں شامل ہیں:
قمیص پہننا، یعنی وہ لباس جو بدن کے مطابق سلا ہو اور عموماً سینے، پیٹھ اور بازوؤں کو ڈھانپے۔ اس کے ضمن میں قميص سے ملتے جلتے سلے ہوئے تمام ملبوسات داخل ہیں، جیسے: بنیان وغیرہ۔
عمامہ باندھنا، یعنی کپڑے کو سر کے گرد لپیٹنا۔ اس کے ساتھ وہ تمام چیزیں بھی شامل ہیں جو سر کو ڈھانپتی ہیں، جیسے: غُترہ، شِماغ اور ٹوپى وغیرہ۔
’’سراویل‘‘ (شلوار اور پاجامہ وغیرہ) پہننا، یعنی نچلے بدن پر ایسا لباس پہننا جو ٹانگوں کی ساخت کے مطابق سلا ہو، جیسے: پتلون اور اس جیسی شارٹس۔
’’بُرنس‘‘ پہننا۔ یہ ایسا ملبوس ہے جو سر کو ڈھانپنے والی چادر سے متصل ہو، جیسے: چادر والی معروف عبایہ۔
’’خف‘‘ (موزے) پہننا، خف سے مراد وه جوتے ہیں جو عموما چمڑے سے بنائے جاتے ہیں اور جو ٹخنوں کو ڈھانپتے ہیں، سوائے اس شخص کے جس کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہن لے اور انھیں احتیاطاً ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے۔
مذکورہ احکام مَردوں کے لیے ہیں، جہاں تک عورت کا تعلق ہے تو وہ کوئی بھی ساتر اور باوقار لباس پہن سکتی ہے، البتہ اس کے لیے نقاب پہن کر چہرہ ڈھانپنا اور دستانے پہننا جائز نہیں، جیساکہ حدیثِ مبارک میں ہے: «احرام والی عورت نہ نقاب پہنے اور نہ دستانے۔»
البتہ اجنبی مَردوں کے سامنے عورت پر اپنا چہرہ اور ہاتھ ڈھانپنا واجب ہے، یعنی اپنی چادر سر سے نیچے لٹکائے اور ہاتھوں کو اپنی چادر کے اندر رکھے، جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کیا کرتی تھیں۔
احرام کے دیگر محظورات میں خوشبو کا استعمال بھی شامل ہے، خواہ بدن پر لگائی جائے یا کپڑوں پر کیونکہ اس میں زینت اور تعیش کا پہلو ہے، نیز یہ خاوند بیوی کے جماع وقربت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ یہ ممانعت مَرد وعورت دونوں پر یکساں ہے، بلکہ عورت کے معاملے میں یہ ممانعت زیادہ سخت ہے کیونکہ اسے اجنبی مَردوں کے سامنے خوشبو لگانے سے مکمل طور پر روکا گیا ہے۔
حدیث کے فوائد:
• صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عبادت کو بکمال ادا کرنے کے لیے سوال کرنے کا ذوق وشوق۔
• نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دینی تعلیم دینے میں فصاحت وبلاغت کہ آپ نے چند محظورات ہی کا ذکر فرمایا ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جائز لباس کی قسمیں بے شمار ہیں۔
• احرام کے دوران زینت اور سامانِ تعیش سے بچنے کا حکم نفس کا تزکیہ وتہذیب کرتا ہے اور اسے اللہ کے حضور عاجزی وخشوع کے ساتھ اس عظیم شعار کی ادائیگی کے لیے آمادہ کرتا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔