«جس نے شام کے وقت تین بار ’’أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ‘‘ (میں اللہ کے کامل کلمات کے ساتھ اس کی مخلوق کے شر سے پناہ پکڑتا ہوں) ' پڑھا، اسے اس رات کوئی بھی ڈنک مارنے والا جانور تکلیف نہیں پہنچا سکتا»۔ سہیل کہتے ہیں: میرے گھر والوں نے اسے سیکھا اور ہررات اسے پڑھتے۔ میرے گھر والوں میں سے ایک بچی کو کسی جانور نے ڈنک مارا تو اس ڈنک سے اسے کچھ بھی تکلیف محسوس نہ ہوئی۔
یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 7898) اور سنن ترمذی (حدیث نمبر 3604) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 6427) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 652)
حدیث کی مختصر وضاحت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو شام کے اذکار میں سے ایک عظیم الشان ذکر کی ہدایت فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اذن سے حفاظت اور بچاؤ کا باعث بنتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جو شخص شام کے وقت تین بار یہ کلمات کہے:
’’أعوذُ بِكَلماتِ اللهِ التَّامَّات مِن شرِّ ما خَلَقَ۔‘‘
’’میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ لیتا ہوں اُس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘
تو اس رات اُسے کسی بھی زہریلے جانور کا ڈنک (جیسے: بچھو، سانپ وغیرہ) نقصان نہیں پہنچائے گا۔
اس دعا کے معنی یہ ہیں کہ میں اللہ کے کامل اور بے عیب کلمات کی پناہ لیتا ہوں اور اُن کے ذریعے تحفظ چاہتا ہوں۔ یہ کلمات اللہ کے اسماء وصفات کو شامل ہیں۔ بعض اہلِ علم کے نزدیک اس سے مراد اللہ کا نازل کردہ کلام (وحی) ہے کیونکہ یہ پناہ مانگنے کے سب سے عظیم اسباب میں سے ہے۔
یہ دعا ہر قسم کے شر سے حفاظت کا ایک جامع حصار ہے، خواہ وہ شر انسانوں کی طرف سے ہو یا جنات کی طرف سے، ظاہری ہو یا باطنی، حسى ہو یا معنوى، جیسے: زہر، ڈنک، موذی جانور، شیطانی وسوسے، فکری الجھنیں اور غم وغیرہ۔
راویِ حدیث سہیل بیان کرتے ہیں کہ اُن کے گھر والے یہ دعا ہر رات پڑھا کرتے تھے۔ ان کی ایک بچی کو ایک بار کسی جانور نے ڈنک مارا، لیکن اُسے کوئی تکلیف محسوس نہ ہوئی۔ یہ دلیل ہے اس ذکر کی اثرپذیری کی کہ اللہ کے اِذن سے یہ نقصان کو دُور کرتا ہے۔ یہ ایک قسم کی ’’الٰہی دوا‘‘ ہے جو پیش آمدہ مصیبت وآزمائش کو روکتی ہے اور اگر پیش آجائے تو اس کے بُرے اثر کو کم کردیتی ہے۔
بعض علماء نے اس ذکر کو صبح کے وقت اور اسی طرح کسی نئی جگہ اُترنے کے موقع پر پڑھنے کو بھی مستحب قرار دیا ہے، جیساکہ حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کی روایت میں آیا ہے کہ جو شخص کسی نئے مقام پر یہ دعا پڑھے، وہاں سے کوچ کرنے تک اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
اس ذکر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ایک ربانی حصار ہے جو اُس وقت موثر ہوتا ہے جب دل حاضر ہو، توکل سچا ہو، اللہ پر حسنِ ظن رکھا جائے، اس کے وعدے پر یقین ہو اور اس کی خبر کو سچا مانا جائے۔