بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«جس بھی گھرانے کو نرم روی عطا کی گئی تو وہ ان کے لیے فائدہ مند ہی ثابت ہوئی۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما المعجم الکبیر از طبرانی (حدیث نمبر 13261) میں مروی ہے۔
ابونعیم نے اسے کتاب ’’معرفۃ الصحابۃ‘‘ (حدیث نمبر 4722) میں روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ نقل کیا ہے: ’’اور جن سے یہ نرمی روک لی گئی تو ان کے لیے نقصان کا باعث بنی۔‘‘ یہ حدیث براویت حضرت عبید اللہ بن معمر رضی اللہ عنہ مروی ہے (جن کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے) ۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 5541) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 942)


حدیث کی مختصر وضاحت


رِفق (نرمی) اُن اعلیٰ اخلاق میں سے ایک جلیل القدر صفت ہے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی مزین وآراستہ تھے اور اپنی امت کو بھی اس کی تاکید فرماتے تھے کیونکہ اس میں خیرِ کثیر اور اثرِ جمیل پوشیدہ ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ ’’جس گھرانے کو نرمی عطا کی جاتی ہے تو وہ اس سے ضرور نفع پاتا ہے۔‘‘
’’الرِفق‘‘ (نرمی) کا مفہوم یہ ہے کہ گفتار وکردار میں نرمی اور ملائمت اختیار کرنا، حسنِ تدبیر سے پیش آنا اور معاملات میں آسانی کا پہلو اختیار کرنا، بشرطیکہ ایسا کرنا کوتاہی اور حق تلفی تک نہ پہنچا دے۔
چنانچہ جب کوئی گھرانہ باہمی معاملات میں نرمی برتے، افرادِ خانہ ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک کا مظاہرہ کریں اور قریب ودُور کے رشتہ داروں اور ہمسائیوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں تو ان پر خیر وبرکت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ان سبھی کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس کے برعکس جب جب نرم روی رخصت ہوجائے اور سختی وتندی غالب آجائے تو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا اور انجامِ کار بُرا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
چنانچہ رِفق ونرمی ہر چیز کو خوبصورت بنادیتی ہے اور اقوال وافعال میں برکت کا سبب بنتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی نظر میں اس کی کس قدر اہمیت ہے، نیز یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ قریبی اور دُور کے تعلق داروں کے ساتھ نرمی اپنانے کی کس قدر ضرورت ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔