رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوا کرتے توفرمایا کرتے تھے: «اللہ کے نام کے ساتھ (داخل ہوتا ہوں)، اے اللہ! محمدپر درود بھیج»۔ اور جب مسجد سے باہر تشریف لاتے تو فرماتے: «اللہ کے نام کے ساتھ (باہر نکلتا ہوں)، اے اللہ! محمدپر درود بھیج»۔
یہ حدیث بروایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘ از ابن السنی (حدیث نمبر 88) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4716) اور تخریج الکلم الطیب (حدیث نمبر 64)
حدیث کی مختصر وضاحت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ آپ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے۔ انھی احوال میں سے ایک یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو برکت اور مدد طلب کرنے کے لیے ’’بسم اللہ‘‘ کہتے، پھر اپنے اوپر درود بھیجتے کیونکہ درود شریف کی بڑی فضیلت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی امت کی ہدایت وراہنمائی اور انھیں خیر تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی پر درود بھیجنے کا مطلب ہے کہ وہ ملأ اعلیٰ میں آپ کی حمد و ثنا اور تعظیم فرماتا ہے۔
اسی طرح جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے باہر تشریف لاتے تو پہلے اللہ کا نام لیتے، پھر اپنے اوپر درود بھیجتے، تاکہ رب تعالیٰ سے مسلسل تعلق قائم رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی حفاظت ونگہداشت میں رہیں۔
یہ ذکر مسجد میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کے مسنون اذکار میں سے ایک ہے۔ کامل اتباعِ نبوی کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو یاد رکھتے ہوئے، اس کی پیروی کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت قبولیت اور اجر کی امید کے ساتھ ہمیشہ یہ ذکر کرنے کا اہتمام کرے۔