رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: «جب امام ’’آمین‘‘ کہے تو تم بھی ’’آمین‘‘ کہو کیونکہ جس کی ’’آمین‘‘ فرشتوں کی ’’آمین‘‘ کے ساتھ ہوگئی، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔» ابن شہاب نے بیان کیا کہ: «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’آمین‘‘ کہتے تھے»۔
یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 780) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 410) میں مروی ہے۔
صحیح بخاری (حدیث نمبر 782) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 410) کے ايك اور الفاظ میں ہے: «جب امام (غیر المغضوب علیہم ولا الضالین) کہے تو تم ’’آمین‘‘ کہو»۔
صحیح بخاری (حدیث نمبر 6402) کے ايك اور الفاظ میں يوں ہے : «جب قاری آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔»
صحیح بخاری (حدیث نمبر 781) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 410) کے ايك اور الفاظ میں يوں ہے: «جب تم میں سے کوئی آمین کہے۔» صحیح مسلم میں یہ اضافہ ہے: «نماز میں»
حدیث کی مختصر وضاحت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں ایسے آسان اعمال کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جن پر اللہ تعالیٰ اجر کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے اور تھوڑے سے عمل پر وافر انعام عطا فرماتا ہے۔ انھی میں سے ایک یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ مقتدی کے لیے مشروع ہے کہ (سورت فاتحہ کی تکمیل کے بعد) آمین کہنے میں اپنے امام کی یوں متابعت کرے کہ اس کی آمین امام کی آمین کے ساتھ بیک وقت ہو، تاکہ اس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جائیں۔
یہاں ’’موافقت‘‘ سے مراد وقت کی مطابقت ہے، یعنی مقتدی کی آمین ابتدا اور اختتام میں فرشتوں کی آمین کے ہم آہنگ ہو۔ اس میں دل کی کیفیت بھی شامل ہوسکتی ہے، جیسے: خشوع، حضورِ قلب اور اخلاصِ نیت۔ — نہ کہ صرف الفاظ کی مشابہت۔
اس کی حکمت غالباً یہ ہے کہ یہ موافقت خشوع اور بیداری کی علامت ہے کیونکہ فرشتے غفلت سے پاک ہیں اور جو شخص اپنی آمین کہنے میں ان کی موافقت کرے، وہ اپنی حضوریِ قلب اور اخلاصِ نیت پر دلیل پیش کرتا ہے۔
’’فرشتوں‘‘ سے مراد آسمان کے ملائکہ اور زمین کے فرشتے ہیں، مثلاً: محافظ فرشتے وغیرہ۔
حدیث کا ظاہری مفہوم تو تمام گناہوں (چھوٹے اور بڑے) کی معافی کا بنتا ہے، لیکن جمہور علماء نے اسے چھوٹے گناہوں کے ساتھ خاص کیا ہے۔ کبیرہ گناہ صرف ایسی توبہ سے معاف ہوتے ہیں جو شرعی شرائط پر پورا اُترے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے حقوق العباد اس بشارت میں اس وقت تک شامل نہیں جب تک حق دار کو اس کا حق ادا نہ کردیا جائے، یا اس سے معافی حاصل نہ کرلی جائے۔
حدیثِ مبارک میں ذکر ہے کہ جہری نمازوں میں امام، مقتدی اور اکیلے نمازی، تینوں کے لیے آمین کو بلند آواز سے کہنا مستحب ہے۔ اسی طرح اس میں آمین کی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے، نیز جب آمین پوری توجہ اور سچے دل سے کہی جائے تو گناہوں کی معافی کا باعث بنتی ہے۔