بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے نکلتے تو فرماتے تھے: «اے اللہ! میں تیرى مغفرت کا طلب گار ہوں۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مسند احمد (حدیث نمبر 25220)، سنن ابوداود (حدیث نمبر 30)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 7)، سنن کبریٰ از نسائی (حدیث نمبر 9824) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 300) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4707) اور صحیح ابوداود (حدیث نمبر 23)۔
حدیث کی مختصر وضاحت
یہ حدیث ایک عظیم الشان نبوی ادب کی طرف رہنمائی کرتی ہے جس کا اہتمام مسلمان کے لیے مستحب ہے۔ اور وہ یہ کہ بیت الخلاء سے نکلتے وقت اللہ تعالیٰ سے مغفرت وبخشش طلب کرے۔ ’’مغفرت‘‘ کے معنی ہیں: گناہ کو ڈھانپ دینا اور اس كوزائل کردینا۔
علماء نے اس موقع پر یہ ذکر کرنے کی حکمت بیان فرمائی ہے، چنانچہ بعض علماء نے کہا کہ یہ استغفار اس لیے ہے کہ قضائے حاجت کے دوران ذکرِ الٰہی سے زبان کو روکنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمی کو پورا کیا جائے۔ بعض نے کہا کہ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ بندہ اللہ کی کھانے پینے اور پھر اس کے بآسانی اخراج کی نعمتوں پر کامل شکر ادا کرنے سے عاجز ہے۔ اور بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کو جسمانی تکلیف سے جب نجات دی تو اس نے گناہوں کی تکلیف کو یاد کیا اور دعا کی کہ جس طرح اللہ نے جس طرح اس سے جسمانى اذیت كو ختم کردیا ہے اسى طرح اس سے گناہوں کى اذيت كو ختم كردے۔
قضائے حاجت کے بعد اس طلبِ مغفرت سے کئی عظیم الشان معانی مستفاد ہوتے ہیں، مثلاً: جسمانی راحت کی نعمت پر شکر بجالانا، گناہوں کے خطرات اور ان کے ضرر کو یاد رکھنا اور اس بات کی تاکید کہ بندہ ہر حال میں اپنے رب سے تعلق قائم رکھے۔ یہ کامل نبوی ہدایت وراہنمائی کی ایک جھلک ہے جو بندوں کو ہر چھوٹے بڑے معاملے میں ربِ کریم سے جوڑ کر رکھتی ہے۔
اسی طرح یہ حدیث مبارک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس شوق اور اہتمام پر بھی روشنی ڈالتی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو باریک ترین جزئیات سمیت محفوظ رکھتے اور پھر انھیں اُمت تک پہنچاتے تھے کیونکہ انھی سنتوں میں ہدایت اور کامل اتباع موجود ہے۔