نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو اور (لباس پر) رطوبت دیکھے، لیکن احتلام یاد نہ ہو تو غسل کرلے۔ اور اگر احتلام یاد ہو، لیکن (لباس پر) رطوبت نہ دیکھے تو اس پر غسل نہیں»۔
یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مسند احمد (حدیث نمبر 26195)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 113) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 612) میں مروى ہے ۔ اور الفاظ سنن ترمذى کے ہیں۔
حدیث کی مختصر وضاحت
مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اُن اُمور کو اچھی طرح سمجھے جن پر اس کی عبادت کا صحیح ہونا موقوف ہے۔ ان میں سے ایک اہم امر غسلِ جنابت کے اسباب کی معرفت ہے اور یہ کہ غسل کب واجب ہوتا ہے۔ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردی ہے کہ جو شخص نیند سے بیدار ہو اور اپنے بدن یا کپڑے پر منی کی رطوبت پائے تو اس پر غسل واجب ہے، خواہ اسے یاد ہو کہ خواب میں احتلام ہوا تھا یا یاد نہ ہو کیونکہ علماء کا اجماع ہے کہ یہ تری ورطوبت منی کے اخراج کی قطعی علامت ہے۔
اور اگر کسی نے خواب میں احتلام دیکھا، لیکن بیدار ہونے پر منی کا کوئی اثر نہ پایا تو اجماعِ امت کے مطابق اس پر غسل واجب نہیں، اس لیے کہ غسل صرف اس وقت لازم ہوتا ہے جب منی کا اخراج ہو۔
تو یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ غسل کا وجوب منی کے وجود کے ساتھ مشروط ہے، خواہ احتلام یاد ہو یا نہ ہو۔ اور محض خواب میں احتلام دیکھ لینا بغیر منی کے اخراج کے غسل کا سبب نہیں بنتا۔
اس حدیث میں یہ اصول بھی بیان ہوا کہ شرعی احکام یقین پر مبنی ہوتے ہیں، گمان اور وہم پر نہیں، لہٰذا محض شک کی بنا پر غسل واجب نہیں ہوتا۔
علاوہ ازیں یہ حدیث اس امر کی بھی دلیل ہے کہ لوگوں کو طہارت اور عبادت سے متعلق احکام بیان کرنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ دین کی تعلیم اور علم کا ابلاغ ہے۔