رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حجر اسود اور مقامِ ابراہیم دونوں جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نور ختم کردیا۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کا نور ختم نہ کرتا تو وہ مشرق ومغرب کے سارے مقام کو روشن کردیتے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما مسند احمد (حدیث نمبر 7000)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 878) اور صحیح ابن حبان (حدیث نمبر 3710) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3559) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 1147)
حدیث کی مختصر وضاحت
بیت اللہ الحرام میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور عظمت کی ایسی روشن نشانیاں ہیں جو اُس کی عظمت وقدرت پر دلالت کرتی ہیں۔ ان میں سب سے عظیم نشانیاں ’’رکن‘‘ اور ’’مقام‘‘ ہیں۔
’’رکن‘‘ سے مراد حجرِ اسود ہے جو کعبہ شریف کے ایک کونے میں نصب ہے۔ اور ’’مقام‘‘ سے مراد مقامِ ابراہیم (علیہ الصلاۃ والسلام) ہے جو کعبہ کے سامنے ایک پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کھڑے ہو کر بیت اللہ کی تعمیر فرمایا کرتے تھے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی فضیلت اور مرتبہ بیان فرمایا اور بتایا کہ یہ جنت کے دو یاقوت ہیں۔ یاقوت ایک نہایت قیمتی اور نایاب پتھر ہے۔ یہ دونوں حقیقت میں جنت سے ہیں، لیکن جب زمین پر آئے تو ان کی اصل صفات بدل گئیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی روشنی سلب کرلی جس کی حکمت شاید یہ ہے کہ ایمان کا مدار غیب پر رہے، نہ کہ عینی مشاہدے پر قائم ہو کیونکہ جو ایمان اجروثواب کا مستحق بنتا ہے، وہ غیبی ایمان ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا نور بنوآدم کے گناہوں کی وجہ سے ختم ہوا، جیساکہ دوسری حدیث میں آیا ہے: ’’اگر بنوآدم کے گناہ ان کو نہ چھوتے تو یہ مشرق ومغرب کے درمیان ہر چیز کو روشن کر دیتے۔‘‘
بعض اہلِ علم نے کہا ہے کہ ان کا نور اس لیے ہٹا دیا گیا کہ مخلوق اس کی تاب نہ لاسکتی، جیسے نگاہیں سورج کی روشنی برداشت نہیں کرسکتیں!
یہ حدیثِ مبارک حجر اسود اور مقامِ ابراہیم کی فضیلت اور ان کے بلند مقام کو واضح کرتی ہے۔ علاوہ ازیں اس میں گناہوں کے اثراتِ بد پر نصیحت بھی ہے کہ کس طرح گناہوں کا اثر جمادات تک پر پڑتا ہے تو پھر بنوآدم کے دلوں پر ان کا اثر کس قدر شدید ہوگا!