جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا: «اُتر کر میرے لیے ستو گھولو۔» (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا)۔ انھوں نے عرض کی: اے اللہ کےر سول صلی اللہ علیہ وسلم! اگر آپ مزید تاخیر کریں یہاں تک شام کا وقت ہوجائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: «اتر کر ستو گھولو۔» انھوں نے عرض کی: اے اللہ کےر سول صلی اللہ علیہ وسلم! اگر آپ مزید تاخیر کریں یہاں تک شام کا وقت ہوجائے، ابھی دن باقی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اترو اور ستو گھولو۔» تیسری بار کہنے پر انھوں نے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ستو گھولے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: «جب تم دیکھو کہ رات ادھر سے آگئى ہے تو روزے دار کا روزہ مکمل ہوگیا۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 5297، الفاظ اسی کے ہیں) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1101) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دین کے احکام سکھانے کے لیے ہر حال میں غیرمعمولی اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ انھی میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ فتحِ مکہ کے سفر میں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ جب سورج غروب ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: «اترو اور ہمارے لیے ’’سَوِیق‘‘ کا مشروب تیار کرو۔» یعنی جَو کو پانی، یا دودھ میں ملا کر ہمارے لیے افطاری تیار کرو۔ اس شخص نے سمجھا کہ ابھی مغرب کا وقت پوری طرح شروع نہیں ہوا، اس لیے عرض گزار ہوا: «اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ شام کا انتظار فرمالیں۔» یعنی آپ تھوڑا سا اور انتظار فرمالیں، حتیٰ کہ شام کے وقت کا یقین ہوجائے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ حکم دیا، لیکن اس نے پھر عرض کی: «ابھی دن باقی ہے۔» کیونکہ غروبِ آفتاب کے بعد بھی کچھ روشنی موجود تھی، لہٰذا اُسے وہم ہوا کہ دن ابھی ختم نہیں ہوا۔
تیسری بار جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس نے فوراً اس کی تعمیل کی اور مشروب تیار کیا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا۔
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایک اہم ضابطہ بتایا جسے بروئے کار لاتے ہوئے کسی بھی جگہ افطار کا وقت جانا جاسکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید تاکید اور وضاحت کے لیے فرمایا: «جب تم دیکھو کہ رات یہاں سے آرہی ہے تو روزے دار کا روزہ مکمل ہوگیا۔»
اس کے معنی یہ ہیں کہ جب رات کی تاریکی مشرق سے نمودار ہوجائے کیونکہ رات اور دن لازم ملزوم ہیں۔ رات تبھی آتی ہے جب دن رخصت ہو اور دن تبھی جاتا ہے جب سورج غروب ہو۔ صحیحین (صحیح بخاری ومسلم) کی روایت میں ہے: «جب رات اِدھر (مشرق) سے آئے اور دن اُدھر (مغرب) سے رخصت ہو اور سورج غروب ہوجائے تو روزے دار کا روزہ مکمل ہوگیا۔»
اس سے معلوم ہوا کہ افطار کا وقت سورج غروب ہونے ہی سے متعین ہوتا ہے، نہ یہ کہ سورج کے ڈوبنے کے بعد باقی روشنی بھی ختم ہو اور نہ یہ کہ مکمل اندھیرا پھیل جائے۔ بلکہ جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے اور رات مشرق کی جانب سے آتی ہے، شرعی طور پر روزہ مکمل ہوجاتا ہے، خواہ روزے دار نے ابھی تک کچھ کھایا پیا ہو، یا نہ کھایا پیا ہو۔
اس حدیثِ مبارک میں ایک نہایت اہم اصول بیان ہوا ہے اور وہ یہ کہ روزے اور افطار کی واضح حدود شریعت نے بیان کردی ہیں، یعنی کھانے پینے سے رک جانے کے لیے طلوعِ فجر اور افطار کے لیے غروبِ شمس۔
علاوہ ازیں حدیث مبارک میں بیان ہوا ہے کہ غروبِ آفتاب کے بعد افطار میں جلدی کرنا مستحب ہے اور سفر میں روزہ رکھنا جائز ہے۔ اس میں اہلِ کتاب اور اہلِ تشیع وغیرہ کی تردید ہے جو ستاروں کے نکلنے تک افطاری کو موخر کرتے ہیں۔ مزید برآں کسی عالم دین کو ایسی بات یاد دلانے کا جواز معلوم ہوا جس کے بارے میں اندیشہ ہو کہ وہ بھول گیا ہے، لیکن تین بار سے زیادہ تکرار نہیں کرنی چاہیے۔ اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ کسی بھی چیز سے روزہ افطار کیا جاسکتا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔