«کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں جن کے حصے میں محض بھوک آتی ہے اور کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جن کے حصے میں صرف رات کی بیداری آتی ہے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مذكوره الفاظ کے ساتھ مسند احمد (حدیث نمبر 9685) میں مذکور ہے۔ اورسنن کبریٰ نسائی (حدیث نمبر 3236) اور سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 1690) میں بایں الفاظ مروی ہے: «بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ... الخ۔»
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3488) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 1083)
حدیث کی مختصر وضاحت
روزہ، قیام اللیل اور دیگر تمام نیک اعمال اللہ تعالیٰ کے ہاں اُس وقت تک مقبول نہیں ہوتے جب تک وہ خالصتاً اللہ کے لیے نہ کیے گئے ہوں اور ان کی ادائیگی میں اُن چیزوں سے بچا نہ گیا ہو جو اُن کے اجر کو زائل یا ناقص کردیتی ہیں۔
اس حدیث کا مقصود بہت سے ایسے لوگوں کی حالت واضح کرنا ہے جو روزہ تو رکھتے ہیں، مگر اُنھیں اپنے روزے سے (اجروثواب کی بجائے) بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ایسا یا تو نیت کی خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے، چنا ں چہ وہ قبولیتِ عمل کی شرط، یعنی خلوصِ نیت کے فقدان کی وجہ سے، عبادت کے اجر سے محروم ہوجاتے ہیں۔ جیساکہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: « میں تمام شریکوں میں شرك سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ جو کوئی عمل کرے اور اس میں میرے ساتھ کسی اور کو شریک کرے، میں اُسے اور اُس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔»
اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث میں مبالغے کے طور پر سخت تنبیہ کی گئی ہو اور یہاں نفی سے مراد کمالِ عمل کی نفی ہو، یعنی جب انسان جھوٹ، غیبت، بہتان اور دیگر کبائر میں مبتلا ہو تو اُس کے عمل کا اجر کم ہوجاتا ہے۔ یہی حال قیامِ اللیل کا بھی ہے۔ کوئی شخص نماز، قرآن کی تلاوت اور ذکر اذکار کی صورت میں طویل عبادات بجا لاتا ہے، لیکن اپنی نیت کی خرابی کی وجہ سے وہ اپنے عمل کے اجر سے محروم رہ جاتا ہے۔
اس حدیث مبارک میں دو بڑی ہدایات بیان ہوئی ہیں:
ہر عمل صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنا لازم ہے اور اُن چیزوں سے بچنا ضروری ہے جو نیک اعمال کو باطل یا ناقص بنادیتی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں «کَمْ» کا لفظ کثرت پر دلالت کرتا ہے، یعنی ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ڈرے اور خود کو اُن میں شامل ہونے سے بچائے۔