جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«جو شخص روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ ضرور کسی چیز سے سحری کرے۔» (اس حدیث کے ایک راوی ) موسى بن داود نے (اپنى روایت میں) کہا: «خواہ معمولى چیز سے»۔


یہ حدیث بروایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 15051)، مسند ابویعلیٰ موصلی (حدیث نمبر 1930) اور مصنف ابن ابی شیبہ (حدیث نمبر 8916) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 6005) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 2309)


حدیث کی مختصر وضاحت


روزہ ایک عظیم عبادت ہے اور اس میں سب سے زیادہ مددگار چیز سحری ہے۔ یہ سنتِ موکدہ ہے جس کی ترغیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی، خواہ وہ تھوڑی مقدار ہی میں ہو، حتیٰ کہ ایک گھونٹ پانی ہی کیوں نہ ہو! جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح روایت ہے۔
اس کی حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں اہلِ کتاب کی مخالفت ہے کیونکہ وہ سحری نہیں کھاتے۔ اس کے علاوہ اس میں بہت سی بھلائیاں اور برکتیں ہیں، مثلاً: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل ہے، اس سے روزے کے لیے جسمانی قوت حاصل ہوتی ہے اور وقتِ سحر كو غنيمت جانتے ہوئے ذکر ودعا، استغفار اور کبھی نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سحری کھانا ان سنتوں میں سے ہے جن پر مسلمان کو خاص اہتمام کے ساتھ عمل کرنا چاہیے، چاہے سحری قلیل مقدار ہی میں کیوں نہ ہو!
حدیثِ مبارک میں سحری کی مشروعیت پر زور دیا گیا ہے، چاہے وہ تھوڑی مقدار ہی میں کیوں نہ ہو۔ علاوہ ازیں اہلِ کتاب کی مخالفت بھی اس کی ایک وجہِ فضیلت ہے۔ اسی طرح سحری روزے دار کو عبادت کے اہتمام پر مدد دیتی ہے اور سنت کی پیروی کا اجر دلاتی ہے، نیز یہ شعائرِ اسلام میں سے ایک اہم شعار کا اظہار ہے۔


غلطی کی اطلاع دیں۔