بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«روزہ سردی کے موسم میں ٹھنڈی غنیمت ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عامر بن مسعود رحمہ اللہ مسند احمد (حدیث نمبر 18959)، سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 8454۔ الفاظ انھی دو کے ہیں)، سنن ترمذی (حدیث نمبر 797)، صحیح ابن خزیمہ (حدیث نمبر 2145) اور مصنف ابن ابی شیبہ (حدیث نمبر 9741) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3868) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 1922)۔


حدیث کی مختصر وضاحت


نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا ہے کہ اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت وشفقت کا ایک مظہر یہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لیے ایسے اوقات مقرر فرمائے جن میں عبادت آسان ہوجاتی ہے اور اجر وثواب بڑھ جاتا ہے، تاکہ بندے عبادت میں زیادہ رغبت کریں اور ان قیمتی اوقات کو غنیمت جانیں۔
انھی مواقع میں سے ایک وہ ہے جس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی کہ ’’سردیوں کے روزے ٹھنڈی غنیمت ہیں۔‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ سردیوں میں روزہ رکھنا اُس مالِ غنیمت کے مانند ہے جو (جنگ میں) بغیر لڑائی اور مشقت کے ہاتھ آجائے کیونکہ اس موسم میں نہ دن کی طوالت کی وجہ سے بھوک کی شدت لاحق ہوتی ہے اور نہ گرمی کی وجہ سے پیاس ستاتی ہے۔ اس طرح بندہ سہولت اور آسانی کے ساتھ روزہ رکھتا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے پورا اجر وثواب ملتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا فضل بہت ہی وسیع ہے!
اس حدیث مبارک میں موسم سرما میں بکثرت روزے رکھنے کی ترغیب، فضیلت والے اوقات کو غنیمت جاننے کی تعلیم اور اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، وسعتِ فضل اور عظیم سخاوت کا بیان ہے۔


غلطی کی اطلاع دیں۔