جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«میں نے عرض کی کہ جتنی کثرت سے میں آپ کو ایک مہینے میں (نفلی) روزے رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا؟ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کون سے مہینے میں؟ میں نے عرض کی: ماہِ شعبان میں۔ فرمایا: شعبان رجب اور رمضان کے درمیان، اس اس سے (یعنى ماہ شعبان سے) لوگ غافل ہوتے ہیں، حالانکہ اس مہینے میں بندوں کے اعمال رپیش کیے جاتے ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔»


یہ حدیث بروایت حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 21753)، سنن نسائی (حدیث نمبر 2357)، شعب الایمان از بیہقی (حدیث نمبر 3540، الفاظ اسی کے ہیں)، مصنف ابن ابی شیبہ (حدیث نمبر 166) اور مسند بزار (حدیث نمبر 2617) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3711) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 1898)


حدیث کی مختصر وضاحت


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن عظیم الشان سنتوں کی طرف رہنمائی فرمائی ہے، ان میں ایک اہم سنت ماہِ شعبان میں نفلی روزہ رکھنا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں بکثرت روزے رکھا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ اس ماہ کی ایک خاصیت ہے جس سے بہت سے لوگ غافل رہتے ہیں۔ چونکہ غفلت کے اوقات میں عبادت کرنے کا اجر عظیم الشان اور ثواب بڑھ جاتا ہے، اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ شعبان کے روزوں کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ جب اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا:
«یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل رہتے ہیں، جب کہ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس میں ربّ العالمین کے حضور اعمال پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ پس میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں پیش ہو کہ میں روزے سے ہوں۔»
تاکہ عملی سال کا اختتام اطاعت وتقرب کے ساتھ ہو۔
یہ طرزِ عمل عبادات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال درجے کی محنت وکوشش کو ظاہر کرتا ہے جس کا مقصد یہ تھا کہ درجات بلند تر ہوں اور اُمت کی تعلیم کا بندوبست ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے تھے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں اعمال کے پیش ہونے کو کیوں پسند کیا؟ اس لیے کہ روزہ افضل ترین عبادات میں سے ہے جو اخلاص اور درجات کی بلندی پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ بندہ نہیں جانتا کہ کس گھڑی اس کے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے، اس لیے روزے کو اپنے مکمل دن کا ساتھی بنالیتا ہے۔ اور اس لیے بھی کہ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو دیگر اعمال کے ساتھ جمع ہوجاتی ہے، جب کہ دیگر اعمال یہ خصوصیت نہیں رکھتے۔ اس لیے بندے کو حیا محسوس کرنی چاہیے کہ اس کے اعمال اس حال میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں کہ ان میں معاصی اور نافرمانیاں بھی شامل ہوں!
علاوہ ازیں اس بات کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات صحیح طور پر ثابت ہے، جیساکہ صحیحین میں ہے کہ بندوں کے اعمال روزانہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوتے ہیں، یعنی رات کے اعمال دن سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے پیش کیے جاتے ہیں۔ پھر ہر ہفتے سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور پھر ماہِ شعبان میں سال بھر کے تمام اعمال مجموعی طور پر پیش ہوتے ہیں۔
عمر بھر ایسے ہی چلتا رہتا ہے، پھر جب زندگی کی ڈور ٹوٹ جاتی ہے تو عمربھر کے اعمال اٹھا لیے جاتے ہیں اور صحیفہ (اعمال نامہ) لپیٹ دیا جاتا ہے۔ گویا جو اعمال درجہ بدرجہ پیش کیے جاتے ہیں، یعنی روزانہ، ہفتہ وار، سالانہ اور عمربھر کے مجموعی طور پر تو عین ممکن ہے کہ یومیہ اعمال تفصیلی طور پر پیش کیے جاتے ہوں اور ہفتہ وار یا سالانہ اجمالی طور پر ہو، یا اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔ اعمال پیش کیے جانے کے ان تمام درجات میں ایک ربانی حکمت کارفرما ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر تو اس کے بندوں اعمال پوشیدہ نہیں رہ سکتے!
اس حدیث مبارک میں ماہِ شعبان میں روزہ رکھنے کا استحباب بیان ہوا ہے کیونکہ اس مہینے میں روزے کی عبادت پوشیدہ تر ہوتی ہے، جب کہ نفلی عبادات چھپ چھپا کر بجالانا افضل ہے۔ اسی طرح اطاعت میں لوگوں کی غفلت کے اوقات میں عبادت میں محنت وکوشش اللہ تعالیٰ کو نہایت محبوب ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔