نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (تقریباً) پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: «وہ عمل اختیار کرو جس کى تم طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں اُکتاتا، یہاں تک کہ تم خود اُکتا جاتے ہو۔» نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز سب سے زیادہ پسند تھی جس پر ہمیشگی کی جاتی، خواہ وہ تھوڑی ہی ہوتی! نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی (نفلی) نماز شروع کرتے تو اس پر مداومت فرماتے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح بخاری (حدیث نمبر 1970) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 782) میں مروی ہے۔ مذکورہ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں۔
اور صحیح مسلم کی ایک روایت (حدیث نمبر 746) میں یوں ہے: «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی عمل کرتے تو اسے برقرار رکھتے۔»
حدیث کی مختصر وضاحت
نیکی وعبادت کے کام پر مداومت وہمیشگی اختیار کرنا نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ مبارکہ تھی۔ اس کا ایک مظہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنا بھی ہے، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ «نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ شعبان سے زیادہ کسی اور مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ شعبان کا پورا مہینا ہی روزہ رکھتے تھے۔» یعنی ماہِ شعبان کے اکثر اور غالب حصے میں روزے رکھتے تھے، جیساکہ دوسری روایت میں ہے: «نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکمل ماہِ شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند دنوں کے سوا مکمل ماہِ شعبان کے روزے رکھتے تھے۔» حالانکہ اس میں مشقت بھی ہوتی تھی، خصوصاً جبکہ ماہِ رمضان اس کے فوراً بعد آتا ہے، لیکن اس کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو ایسے قلیل عمل کی پابندی کی ترغیب دیتے تھے جس پر دوام وہمیشگی آسان ہو، چنانچہ فرمایا: «وہ عمل اختیار کرو جس کى تم طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اُکتاتا، یہاں تک کہ تم خود اُکتا جاتے ہو۔» یعنی نیکی کے ایسے کام لازم پکڑو جن پر بغیر کسی مشقت کے دوام وہمیشگی کی استطاعت رکھتے ہو، اس لیے کہ تھوڑا عمل اگر پابندی کے ساتھ ہو تو وہ زیادہ ثواب والا اور قبولیت کے زیادہ قریب ہوتا ہے، برخلاف اُس مشکل وپُرمشقت عمل کے جو عام طور پر اُکتاہٹ اور انقطاع کی طرف لے جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل مبارک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل قوت اور بلندہمتی کے عین مطابق ہوتا تھا، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو جو ہدایت فرمائی ہے تو وہ ان پر رفق ونرمی کا مظہر اور اُنھیں ایسے نیک عمل پر آمادہ کرنے پر مبنی ہے جس پر وہ بغیر مشقت وانقطاع کے دوام اختیار کرسکیں۔
پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرما کر خبر دی کہ «نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز سب سے زیادہ پسند تھی جس پر ہمیشگی کی جاتی، خواہ وہ تھوڑی ہی ہوتی!» یعنی قلیل عمل پر بھی اگر کرنے والا دوام اختیار کرے، خواہ وہ نیک عمل نماز ہو، روزہ ہو، یا تلاوتِ قرآن وغیرہ تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس کثیر عمل سے زیادہ محبوب تھا جو کچھ عرصے کے بعد منقطع ہوجائے۔