پیر 4 صفر 1448 | 2026-07-20

A a

«جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی سے لپٹنا اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملانے چاہتے اور وہ مخصوص ایام میں ہوتیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں حکم دیتے تو ازار باندھ لیتیں۔»


یہ حدیث بروایت حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا صحیح بخاری (حدیث نمبر 303، الفاظ اسی کے ہیں) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 294) میں مروی ہے۔ صحیح مسلم کى ایک روایت (حدیث نمبر ۲۹۳) کےالفاظ یوں ہیں: «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے مخصوص ایام میں ان کے ساتھ ازار کے اوپر ہى سے چمٹتے اور بغل گیر ہوتے تھے۔»
صحیح مسلم (حدیث نمبر 293) میں بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ حدیث یوں مروی ہے: «ہم (ازواج مطہرات) میں سے کسی ایک کے خصوصی ایام ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ازار باندھنے کا حکم دیتے، وہ ازار باندھ لیتیں تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ چمٹتے اور بغل گیر ہوتے۔»


حدیث کی مختصر وضاحت


حدیث مبارک یہ حکمِ شرعی واضح کرتی ہے کہ حیض کی حالت میں شوہر کے لیے بیوی سے شرم گاہ کے علاوہ دیگر طریقوں سے لطف اندوز ہونا جائز ہے، البتہ شرم گاہ میں جماع کرنا بالاجماع حرام ہے۔
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی کسی زوجہ سے حیض کی حالت میں لپٹنا اور بغل گیر ہونا چاہتے تو انھیں حکم دیتے کہ وہ اپنی ناف سے گھٹنے تک کے حصے کو چادر وغیرہ سے ڈھانپ لیں، تاکہ نہ تو انھیں کسی قسم کی گندگی لگے اور نہ حرام فعل میں پڑنے کا اندیشہ باقی رہے۔ اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں عام لوگوں جیسا کوئی اندیشہ موجود ہی نہ تھا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل امت کے لیے شریعت کا حصہ اور دینی تعلیم تھا۔
اسی لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، جیساکہ صحیح بخاری ومسلم میں ہے: «تم میں سے کون ہے جو اپنی خواہشات پر ویسے قابو رکھ سکتا ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے!»
یہ حدیث اور اللہ تعالیٰ كا یہ فرمان: {سو حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہو۔} (البقرۃ: 222) آپس میں متعارض نہیں ہیں ۔
کیونکہ آیت میں ممانعت جماع پر محمول ہے، جب کہ اس کے علاوہ استمتاع جائز ہے۔ البتہ اگر کسی شخص کو اندیشہ ہو کہ وہ اپنے نفس پر قابو نہیں رکھ سکے گا اور جماع میں مبتلا ہوسکتا ہے تو اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ احتیاط کی راہ اختیار کرے اور لپٹنے بوسہ وکنار اور بغل گیر ہونے سے گریز کرے۔
بظاہر حدیث مبارک سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حیض کے آغاز اور اختتام میں کوئی فرق نہیں، لیکن صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ اجازت بہت زیادہ حیض کی حالت، یعنی حیض کی شدت اور کثرت کے وقت تک کے ساتھ مقید ہے۔
حدیثِ مبارک میں بیان ہوا ہے کہ بیوی اگر ازار باندھ کر ناف سے گھٹنے تک کے حصے کو ڈھانپ لے تو حیض کی حالت میں اس کے ساتھ چمٹنا، بوسہ وکنار كرنا اور بغل گیر ہونا جائز ہے۔ یہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ نیز حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ضبطِ نفس، قوتِ ارادی اور امت کو محظور سے بچانے کی شدید خواہش کا اظہار ہے۔ اسی طرح حدیث میں یہود کی مخالفت بھی ہے کیونکہ وہ حیض کی حالت میں نہ صرف لپٹنے بوسہ وکنار اور بغل گیر ہونےسے رک جاتے تھے، بلکہ عورتوں کے ساتھ کھاناپینا بھی ترک کردیتے تھے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم جاری فرمادیا کہ ہم جماع کے سوا سب کچھ کرسکتے ہیں۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔