جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«ابن آدم دو چیزوں کو ناپسند کرتا ہے؛ (ایک) موت ہے، حالانکہ موت ایک مومن کے لیے فتنوں سے بہتر ہے۔ (دوسری چیز) مال کی کمی كو نا پسند کرتا ہے، حالانکہ مال کی کمی حساب کتاب میں کمی کا باعث ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 23625) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 813) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 3210)


حدیث کی مختصر وضاحت


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ دنیا دارالابتلا ہے اور یہاں آزمائشوں اور فتنوں کا سامنا ناگزیر ہے۔ اور یہ کہ دنیا کے فریب میں آجانا اور اس پر بھروسا کرنا ہلاکت کا باعث ہے۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس کے خطرات سے سختی کے ساتھ خبردار فرمایا۔
اس حدیث مبارک میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی فطرت اور جبلت کو بیان کیا ہے کہ انسان فطری طور پر موت کو ناپسند کرتا ہے اور مال ودولت سے محبت رکھتا ہے، جب کہ مومن کے لیے موت کا آجانا فتنوں میں مبتلا ہونے سے کہیں بہتر ہے۔
’’فتنہ‘‘ کا اصل مفہوم متحان اور آزمائش ہے۔ قرآن وحدیث میں یہ مختلف معنوں میں آیا ہے، مثلاً: شرک میں مبتلا ہونا، کبیرہ گناہوں اور نافرمانیوں کا ارتکاب۔ احتمال ہے کہ یہاں اس سے دنیا کی زیب وزینت، مال ودولت کی حرص اور اس کے نتیجے میں دل کا اللہ تعالیٰ سے غافل ہوجانا مراد ہے۔
جب تک انسان دنیا کے ’’دارالتکلیف‘‘ (شرعی ذمہ داری کے جہان) میں ہے، وہ فتنوں سے بچ نہیں سکتا۔ کوئی بھی شخص اللہ کی تقدیر اور تدبیر سے بےخوف نہیں ہوسکتا اور نہ دین، جان، مال اور اہل وعیال کی آزمائشوں سے بالکل محفوظ ومامون رہ سکتا ہے۔ صرف وہی بندہ ان فتنوں سے سلامت رہتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل ولطف سے ثابت قدم رکھے۔ اس لیے جب معاملہ اس حدتک حساس ہے تو مومن کے لیے یہی بہتر ہوسکتا ہے کہ وہ گمراہ کن فتنوں میں پڑنے سے پہلے دنیا سے رخصت ہوجائے، جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے: «اگر تُو اپنے بندوں کے لیے فتنے کا اِرادہ فرمائے تو مجھے فتنے میں مبتلا کیے بغیر اپنی بارگاہ میں بلالے۔»
رہی یہ بات کہ انسان مال کی کمی کو ناپسند کرتا ہے تو اس لیے کہ یہ اس کی فطرت میں ہے اور مال ہی زندگی کا سہارا ہے۔ اسی سے ضروریات پوری ہوتی ہیں اور اسی کے ذریعے انسان اپنے معاش کو سنبھالتا ہے۔ البتہ یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کم مال والے کا حساب آسان ہوگا کیونکہ اس سے صرف دو سوال ہوں گے: یہ مال کہاں سے کمایا؟ اور کہاں خرچ کیا؟
چنانچہ جتنا مال کم ہوگا، اتنا ہی سوال کم ہوگا، حساب ہلکا ہوگا اور وہ ذمہ داری کے بوجھ سے زیادہ آزاد ہوگا، خواہ اس نے مال حلال طریقے ہی سے کیوں نہ کمایا ہو!
اسی نسبت سے اسے ’’مال‘‘ کہا گیا ہے کیونکہ اگر اسے شرعی حدود میں مقید نہ رکھا جائے تو یہ دلوں کو اللہ تعالیٰ سے پھیر دیتا ہے اور انسان کے لیے دنیا وآخرت میں وبال بن جاتا ہے۔
اس حدیثِ مبارک میں اہلِ ایمان کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اِقتدا میں دنیا سے زہد اختیار کرنے اور قلیل مال پر قناعت کرنے کی ترغیب ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبت اور اس سے مُنھ موڑنے والے تھے۔


غلطی کی اطلاع دیں۔