جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«بے شک میں اللہ کى قسم! ، اگر اللہ نے چاہا ، تو جب بھی میں کوئی قسم کھاتا ہوں اور پھر اس کے سوا کسی اور چیز میں اچھائی دیکھتا ہوں تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور وہی کام کرتا ہوں جس میں خیر وبھلائی ہوتی ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 6718) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1649، الفاظِ حدیث اس کے ہیں) میں مروی ہے۔
صحیح بخاری (حدیث نمبر 5518) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 1649) کى ایک اور روایت کے الفاظ یوں ہیں: «مگر وہی کروں گا جو بہتر ہوگا اور قسم توڑنے کا کفارہ ادا کردوں گا۔»


حدیث کی مختصر وضاحت


یہ حدیث اُس وقت کی ہے جب غزوۂ تبوک کے موقع پر بنواشعر کا ایک گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا مطالبہ کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «واللہ! نہ تو میں تمھیں سواری دے سکتا ہوں اور نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس پر تمھیں سوار کروں۔»
بعدازاں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے لیے تین اونٹ (اور ایک روایت کے مطابق پانچ اونٹ) دینے کا حکم جاری فرمایا۔ وہ جب روانہ ہوئے تو انھیں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قسم توڑ دی ہے اور یہ بات اُن پر شاق گزری۔ وہ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ماجرا کہہ سنایا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی کہ دراصل اللہ تعالیٰ ہی نے اُن کے لیے سواری کا انتظام فرمایا ہے۔
اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عظیم الشان شرعی قاعدہ بیان فرمایا کہ اگر کوئی مسلمان کسی بات پر قسم کھالے اور بعد میں اُسے معلوم ہو کہ اُس کے برخلاف عمل کرنا زیادہ بہتر اور فضیلت والا ہے تو سنت یہی ہے کہ وہ اپنی قسم توڑدے اور بہتر عمل اختیار کرے۔
اس کی مثال یوں سمجھیے کہ اگر کوئی شخص ماہِ رمضان میں عمرہ نہ کرنے کی قسم کھالے تو ماہِ رمضان میں عمرے کی فضیلت کی وجہ سے بہتر یہ ہے کہ وہ ماہِ رمضان میں عمرہ کرلے، بشرط کہ یہ کسی واجب کے ترک کے ساتھ متصادم نہ ہو اور پھر اپنی قسم کا کفارہ ادا کردے۔ یہی مفہوم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا کہ: «میں کسی بات پر قسم کھاتا ہوں، پھر اُس سے بہتر کو دیکھتا ہوں تو اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔»
اگر کوئی شخص پہلے ہی اپنی قسم توڑ دے، یعنی وہ کام کر گزرے جس کے نہ کرنے پر قسم کھائی تھی اور بعد میں کفارہ ادا کرے تو اس میں بھی کوئی قباحت نہیں، جیساکہ صحیح بخاری ومسلم کی روایت میں ہے: «میں وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور یوں اپنی قسم سے بری ہوجاتا ہوں۔»
یہاں ’’تحلُّل‘‘ (بری ہونے) سے مراد یہ ہے کہ آدمی قسم کے بوجھ اور اس کی حرمت سے نکل آئے اور وہ کام کرے جو اُس کے لیے جائز ہو۔
یہ حکم اس وقت لاگو ہوتا ہے جب قسم کسی جائز، مستحب، یا مکروہ امر کے بارے میں ہو۔ البتہ اگر قسم کسی واجب کو ترک کرنے کی ہو تو اُس کو پورا کرنا جائز ہی نہیں، بلکہ لازم ہے کہ فوراً قسم توڑ کر کفارہ ادا کرے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی فعلِ حرام کرنے کی قسم کھالے تو فعلِ حرام ارتکاب اُس کے لیے جائز نہیں ہوگا اور اس پر کفارہ دینا لازم ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔