«جب نماز کے لیے اقامت ہو جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں۔»
یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 710) میں مروی ہے۔
حدیث کی مختصر وضاحت
یہ حدیثِ مبارک شریعت کے ایک عظیم اصول کو واضح کرتی ہے اور وہ یہ کہ فرض کو نفل پر مقدم رکھا جائے، چنانچہ جب نماز کی اقامت ہوجائے تو کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ نفلی نماز شروع کرے، نہ تحیۃ المسجد اور نہ سننِ رواتب، حتیٰ کہ (اقامت کہے جانے کے بعد) فجر کی سنتیں بھی نہ پڑھے! بلکہ واجب یہ ہے کہ وہ حدیث کے ظاہر کے مطابق عمل کرتے ہوئے صرف فرض نماز کی طرف متوجہ ہو اور اس کے علاوہ کسی اور عبادت میں مشغول نہ ہو۔
البتہ اگر کوئی شخص پہلے ہی نفلی نماز میں مشغول ہو اور اس دوران اقامت ہوجائے،تو اگروہ ابھی نماز کی ابتدا ہی میں ہو تو نماز ختم کرلے اور اگر آخر میں ہو تو اسے مختصر طور پر مکمل کرلے۔ بعض علماء نے ایسی صورت کو اس شرط کے ساتھ مقید کیا ہے کہ اگر بندہ نفلی نماز کی ایک رکعت پڑھ چکا ہو تو بقیہ نماز مکمل کرکے امام کے ساتھ شامل ہوجائے۔ اس موقف پر ان كى دلیل یہ حدیث ہے: «جس نے نماز کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پالی۔»
حدیث میں نفی سے مراد نہی (ممانعت) ہے۔ اہلِ علم کے نزدیک اس کی دو توجیہات ہیں:
نماز کی درستگی کی نفی، یعنی نفلی نماز سرے سے صحیح نہیں ہوتی۔
یا نماز کی اکملیت کی نفی، یعنی نماز فی الجملہ صحیح ہوتی ہے، مگر اس کا اجر وثواب ناقص ہوتا ہے۔ اکثر علماء نے یہی موقف اختیار کیا ہے۔
اس نبوی رہنمائی کی حکمت چند پہلوؤں سے ظاہر ہوتی ہے:
فرض نماز کو امام کے ساتھ آغاز ہی سے ادا کرنے کی حفاظت۔
تکبیرِ اولیٰ کا مل جانا جو عظیم الشان فضیلت رکھتا ہے۔
صف اور جماعت کی وحدت کی رعایت اور ہر اُس چیز سے اجتناب جو امام صاحبان پر اختلاف یا اعتراض کا باعث بنے۔
چنانچہ یہ حدیث مبارک اپنے مجموعی مفہوم میں مسلمان کو یہ سکھاتی ہے وہ سب سے زياده اہمیت کے حامل امور کو اس سے کم اہمیت والے معاملات پر مقدم رکھے، فرائض کو نوافل پر ترجیح دے اور جماعت کے مقام ومرتبےاو راس کے وقار وشان کو ملحوظ خاطر رکھے۔
اس حدیث مبارک کا ظاہر یہ بتاتا ہے کہ اقامت کے بعد نفلی نماز شروع کرنا جائز نہیں، نہ اپنے گھر میں اور نہ مسجد میں، البتہ اگر نمازی چاہے تو اسے فرض نماز کے بعد قضا کرسکتا ہے۔