«جس شخص نے کہا: ’’میں اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کے رسول ہونے پر راضی ہوا‘‘ تو جنت اس کے لیے واجب ہوگئی۔»
یہ حدیث بروایت حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سنن ابوداود (حدیث نمبر 1529)، سنن کبریٰ نسائی (حدیث نمبر 9748)، صحیح ابن حبان (حدیث نمبر 863) اور مستدرک حاکم (حدیث نمبر 1904) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 6428) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 334)
حدیث کی مختصر وضاحت
اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی، اس کی شریعت کے سامنےسر تسلیم خم کرنا اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت گزاری، یہ جنت میں داخلے کے بڑے اسباب میں سے ہیں۔ اس حدیث میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ جو شخص یہ کہے: «میں اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوں» اور یہ کلمہ دل کے یقین اور اعضاء کی اطاعت گزاری کے ساتھ کہا ہو تو اس کے لیے جنت کا وعدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر رضا کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اس کے شرعی اور تقدیری، دونوں فیصلوں کو تسلیم کرے۔
اسلام کے دین ہونے پر رضا کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے احکام کو عقیدہ اور عمل، دونوں میں قبول کرے۔
اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر رضا کا مطلب یہ ہے کہ بندہ ان کی تعظیم کرے، ان کی پیروی کرے اور بدعت کو چھوڑ دے۔
جو شخص ان سب اُمور کو پورا کرے تو اس کے ساتھ جنت میں داخلے کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ جب وہ جنت میں داخل ہوگا تو بندے کے عمل کے مطابق اسے ثواب دیا جائے گا۔
یہ کلمات محض الفاظ نہیں ہیں، بلکہ یہ وفاداری کا ایک عہد ہیں جو ایمان، اطاعت اور استقامت کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
اس حدیث مبارک میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی شریعت کے آگے جھک جانا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنا کس قدر عظیم الشان عمل ہے۔
اسی طرح اس حدیث شریف میں مذکورہ ذکر کی فضیلت پر بھی توجہ دلائی گئی ہے کیونکہ یہ ذکر اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ کی کامل بندگی اور اس کے ماسوا سے براءت ثابت کرتا ہے۔
علاوہ ازیں اس ذکر میں وہ تین اصول یکجا ہیں جن کی بابت بندے سے قبر میں سوال کیا جائے گا، یعنی تیرا رب کون ہے؟، تیرا دین کیا ہے؟ اور تیرا نبی کون ہے؟
اسی طرح یہ کلمات صبح وشام کے اذکار میں بھی شامل ہیں جن کی پابندی ہر مسلمان کے لیے مستحب ہے۔