جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«جو کسی بیمار کی عیادت کے لیے گیا، وہ جنت کے ’’خُرفہ‘‘ میں رہا۔ پوچھاگیا: اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم! جنت کا ’’خرفہ‘‘ کیا ہے؟ فرمایا: اس کا پھل۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 2568) میں مروی ہے۔
صحیح مسلم ہی کی ایک اور روایت کے الفاظ ہیں: «حتیٰ کہ وہ واپس لوٹ آئے۔»


حدیث کی مختصر وضاحت


(قرآن وسنت کے) نصوص میں مسلمان کے اپنے بھائی پر جو حقوق بیان ہوئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اگر وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کی جائے۔ شریعت نے اس پر عظیم الشان اجر مرتب فرمایا ہے، چنانچہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرے ... الخ۔» تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیادت کرنے والے کے ثواب کی مثال جنت کے پھلوں کو چننے سے دی ہے، چنانچہ جو شخص کسی بیمار کی عیادت کے لیے نکلتا ہے تو وہ ثواب کے پھل چنتا رہتا ہے، یہاں تک کہ واپس لوٹ آئے۔ جیسا کہ دوسری روایت میں آیا ہے۔
الخُرْفَة: پکا ہوا پھل۔ جَناها: (باغ کا) وہ پھل جو توڑا جائے۔
مقصود یہ ہے کہ بیماروں کی عیادت نرمی وشفقت، باہمی ہمدردی اور باہمی اُلفت ومحبت کا ایک دروازہ ہے۔ عیادت سے مریض کو تسلی ملتی ہے اور اُس کا دکھ ہلکا ہوتا ہے۔ بیمار کی عیادت مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق میں سے ہے اور ایک مؤکد سنت ہے، بلکہ بعض علماء کے نزدیک یہ فرضِ کفایہ ہے۔ اس کا استحباب صرف مسلمان مریضوں تک محدود نہیں، بلکہ غیرمسلم مریضوں کی عیادت بھی مستحب ہے، بشرط کہ اُس کے قبولِ اسلام یا نصیحت پانے کی امید ہو، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی لڑکے کی بیماری میں اُس کی عیادت فرمائی تھی۔
عیادت کے آداب میں یہ باتیں شامل ہیں کہ مناسب وقت کا انتخاب کیا جائے، مریض پر بوجھ ہو تو اس کے پاس قیام مختصر رکھا جائے، نرم لہجے میں گفتگو کی جائے، مریض کو دلی خوشی پہنچائی جائے، اُس کے لیے دعا کی جائے، اُسے صبر اور اللہ پر حسنِ ظن کی یاددہانی کرائی جائے اور مریض اور اُس کے اہلِ خانہ کی رازداری کا لحاظ رکھا جائے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ عیادت کرنے والے کو گھر سے نکلنے سے لے کر مریض کے پاس بیٹھنے اور پھر اپنے گھر واپس آنے تک لگاتار ثواب ملتا ہے۔ بیمار کی عیادت ایک آسان عمل ہے، لیکن اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت عظیم الشان ہے۔
اس حدیث مبارک میں بیمار کی عیادت کی فضیلت کا بیان اور اُس پر مرتب ہونے والے عظیم الشان ثواب کی ترغیب ہے، نیز یہ اُن اعمالِ صالحہ میں سے ہے جن کے ذریعے جنت میں داخلے کی امید کی جاتی ہے۔
علاوہ ازیں یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ معمولی اعمال اگر اخلاص کے ساتھ اور نبوی ہدایت کے مطابق کیے جائیں تو اُن کی تاثیر اور اجروثواب عظیم الشان ہوتا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔