جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق پوچھا جو حرام نہیں تھی اور اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام کردی گئی۔»


یہ حدیث بروایت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 7289 ) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 2358) میں مروی ہے۔الفاظ صحیح بخارى کے ہیں۔ 


حدیث کی مختصر وضاحت


اس حدیث مبارک میں سوالات اور فتاویٰ کے حوالے سے ایک عظیم الشان اور جلیل القدر تربیتی اصول کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ شریعت کا بنیادی مقصد مکلّفین سے تنگی اور سختی کو ختم کرنا ہے اور جس چیز کے بارے میں شریعت نے خاموشی اختیار کی ہو، وہ بندوں پر رحمت وشفقت کے طور پر ہے، نہ کہ نسیان کی وجہ سے، لہٰذا اس کے پیچھے پڑ کر سوال نہیں کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اور فضول سوالات سے اس اندیشے سے منع فرمایا ہے کہ کہیں جواب کی وجہ سے امت پر کوئی ایسی چیز فرض نہ ہوجائے جو ان کے لیے دشوار ہو کیونکہ غیرضروری سوال کبھی کبھی شدت اور سختی کا دروازہ کھول دیتا ہے، یہاں تک کہ جو چیز لوگوں کے لیے مباح تھی، وہ حرام قرار پاجائے اور سائل خود اپنے لیے اور دوسروں کے لیے محرومی کا سبب بن جائے۔ تو یوں ایسا شخص لوگوں میں سب سے بڑا مجرم ٹھہرتا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں جرم سے مراد بہت بڑا گناہ ہے۔ اس کی مثال بنی اسرائیل کی گائے کے واقعے میں ملتی ہے۔ اسی طرح حج کی فرضیت کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: «اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال تم پر حج واجب ہوجاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے … مجھے اس حال پر چھوڑ دو جس حال پر میں نے تمھیں چھوڑا ہے کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کی ہلاکت ان کے زیادہ سوالات اور اپنے انبیاء کے ساتھ اختلاف کی وجہ سے ہوئی۔»
البتہ اس تنبیہ کا مقصد یہ نہیں کہ علم سیکھنے، یا ضروری وضاحت طلب کرنے سے روک دیا جائے، بلکہ جہاں جاننا لازم ہو، وہاں سوال کرنا واجب ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {پس تم اہلِ علم سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔} (النحل: 43(
یہ وعید نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے ساتھ خاص تھی، تاکہ امت پر کوئی ایسا فرض نہ عائد ہوجائے جو ان کے لیے دشوار ہو۔ رہی بات نبوت کے بعد اور وحی کے انقطاع کے بعد کے ادوار کی تو اصل قاعدہ یہ ہے کہ جس بات کے بارے میں اشکال وپریشانی ہو، اس کے بارے میں علماء سے سوال کیا جائے کیونکہ شریعتِ اسلامیہ مکمل ہوچکی ہے، چنانچہ اب اس میں نہ اضافہ ہوسکتا ہے اور نہ کمی۔
اس حدیثِ مبارک میں بیان ہوا ہے کہ اگر کسی گناہ کا ضرر عام ہو تو اس کا وبال اور اس کا جرم زیادہ شدید ہوتا ہے۔ اسی طرح واضح ہوا کہ شریعت کے بنیادی قواعد میں سے ایک یہ ہے کہ اشیاء کا اصل حکم اِباحت وجواز ہے، جب تک کہ اس کے برخلاف شریعت کا حکم نہ آجائے۔
علاوہ ازیں حدیث شریف میں اپنی امت پر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت وشفقت ظاہر ہوئی اور آپ کا یہ خدشہ بھی واضح ہوا کہ کہیں اُمت پر کوئی ایسا حکم لاگو نہ کردیا جائے جسے وہ ادا نہ کرسکیں۔


غلطی کی اطلاع دیں۔