جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے اندر ایک طرف سے دوسری طرف جاتے اور ہمارے کندھوں اور سینوں پر ہاتھ پھیرتے تھے (ہمارے کندھوں اور سینوں کو برابر کرتے تھے) اور فرماتے تھے: «(صفوں سے) آگے پیچھے مت ہونا، ورنہ تمھارے دل مختلف ہوجائیں گے۔» نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے: «بے شک اللہ تعالیٰ ملائے اعلیٰ میں اگلى صفوں کی تعریف وثنا کرتا ہےاور اس کے فرشتے ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔»


یہ حدیث بروایت حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سنن ابوداود (حدیث نمبر 664)، سنن کبریٰ نسائی (حدیث نمبر 887، الفاظ اسی کے ہیں) اور صحیح ابن حبان (حدیث نمبر 2161) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 1842) اور صحیح الترغیب والترہیب (حدیث نمبر 493، 502)


حدیث کی مختصر وضاحت


یہ حدیث مبارک نماز کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرمعمولی توجہ کو واضح کرتی ہے۔ انھی پہلوؤں میں سے ایک پہلو صفوں کو سیدھا اور درست رکھنا ہے، چنانچہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام بنفسِ نفیس صفوں کے درمیان چلتے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کندھوں اور سینوں کو برابر کرتے اور فرماتے: «اختلاف نہ کرو، ورنہ تمھارے دل بھی مختلف ہوجائیں گے۔» اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ظاہری بے ترتیبی باطنی انتشار اور دلوں کے فساد کا سبب بنتی ہے، جب کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر اتفاق دلوں کو جوڑتا اور صفوں کی وحدت قائم کرتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف صفوں کو درست کرنے پر اکتفا نہ فرمایا، بلکہ اس کے ساتھ پہلی صفوں کی فضیلت کو بھی بیان فرمایا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «بے شک ٰ الله تعالى ملائے اعلیٰ میں اگلى صفوں کی تعریف وثنا کرتا ہےاور اس کے فرشتے ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔»
اگلی صفوں پر اللہ کی ’’صلاۃ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ ملائے اعلیٰ میں ان کی تعریف وثنا کرتا ہے اور فرشتے ان کے لیے دعا اور مغفرت طلب کرتے ہیں۔
خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا طرزِ عمل بھی اسی ہدایت پر رہا۔ وہ یا تو خود صفوں کو سیدھا کرتے، یا کسی کو اس پر مقرر فرماتے، تاکہ سنت کی پابندی ہو، صفوں کی وحدت قائم رہے اور دلوں کی یکجہتی برقرار رہے۔
اس حدیث مبارک میں پہلی صف میں جلد پہنچنے اور اس میں سبقت کرنے کی عظیم الشان ترغیب بیان ہوئی ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔