جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

احنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہا کہ میں اس شخص (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کی مدد کرنے کو چلا تو راستے میں مجھے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ملے۔ پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: اس شخص (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کی مدد کروں گا۔ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنے گھر کو لوٹ جاؤ۔ میں نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے: «جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں لے کر بھڑ جائیں تو قاتل ومقتول دونوں دوزخی ہیں۔» میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! قاتل تو خیر (ضرور دوزخی ہونا چاہیے)، مقتول کا کیا گناہ؟ فرمایا: «وہ بھی اپنے ساتھی کو مار ڈالنے کی شدید خواہش رکھتا تھا۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 31، الفاظ اسی کے ہیں) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 2888) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی کو قتل کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سات ہلاکت خیز گناہوں میں شمار فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ جرم کعبہ کے انہدام سے بھی بڑا ہے کیونکہ اس میں نسل وکھیتی کی ہلاکت ہوتی ہے، دین ودنیا کا فساد مچ جاتا ہے اور مسلمانوں کی وحدت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔
اس حدیث سے متعلق ایک واقعہ ہے اور وہ یہ کہ جب سن 36ھ میں بصرہ کے مقام پر ’’واقعہ جمل‘‘ پیش آیا جس میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اصلاح اور خونریزی کے روکنے کی نیت سے نکلی تھیں، مگر حالات بگڑ گئے اور ایک بہت بڑے فتنے کی صورت اختیار کرگئے۔
چنانچہ اسی موقع پر حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی نصرت کے لیے نکلے تو راہ میں ان کی ملاقات حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انھوں نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ حضرت احنف رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے انھیں واپس لوٹنے کا مشورہ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد دلایا: «جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں تو قاتل اور مقتول، دونوں جہنم میں ہوں گے۔» ان کا گمان تھا کہ صحابہ کے مابین یہ قتال اسی وعید کے تحت ہے، اس لیے اس میں شرکت درست نہیں۔ حدیث کا یہ فہم درحقیقت ان کا اجتہاد تھا، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان جو خونریزی ہوئی، وہ اس وعید میں داخل نہیں کیونکہ وہ سب مجتہد اور تاویل پر تھے۔ ان کا قتال نہ دنیا طلبی کے لیے تھا، نہ عصبیت اور نہ جاہلی حمیت کے سبب تھا، بلکہ شرعی جواز پر مبنی تھا۔ ہر ایک کا اعتقاد تھا کہ وہ حق پر ہے اور اس کا مخالف باغی ہے جسے روکنا لازم ہے۔ پس جو گروہ حقیقتاً حق پر تھا، اسے دہرا اجر ملا اور جو اجتهادی خطا کا شکار ہوا، اسے ایک اجر ملا کیونکہ وہ اخلاص کے ساتھ حق کی تلاش میں کوشاں تھا۔
البتہ وہ قتال جو دنیاوی مفاد، یا جاہلی عصبیت وحمیت کے لیے ہو، وہی تو اس حدیث سے مراد ہے اور اس پر یہ شدید وعید صادق آتی ہے کہ قاتل اور مقتول دونوں جہنم کے مستحق ہیں!
یہاں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو فرمانِ نبوی سمجھنے پر اشکال پیش آیا کہ مقتول جہنم میں کیسے ہوگا، جب کہ اس نے قتل تو نہیں کیا؟ تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سبب بیان فرمایا کہ «متقول بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کے درپے تھا۔» یعنی اگر موقع پاتا تو اپنے بھائی کو قتل کردیتا، چنانچہ اس کی نیت کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ کیا گیا، اگرچہ وہ اپنے ارادے کو پورا نہ کرسکا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’’قاتل ومقتول جہنم میں ہیں‘‘ سے یہ مراد نہیں کہ وہ لازمی اور قطعی طور پر جہنم میں داخل ہوں گے، بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ اس سزا کے مستحق ہیں۔ یہ فرمان وعید کے طور پر ہے، جب کہ ان دونوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ وہ چاہے تو انھیں سزا دے کر دیگر توحید پرستوں کی طرح دوزخ سے نکال لے، یا انھیں ابتدا ہی میں معاف فرمادے۔
اس وعید میں وہ شخص داخل نہیں جو اپنی جان، یا مال، یا عزت کے دفاع میں کسی شخص کو قتل کردے، جیسے: کسی حملہ آور کو روکنے والا شخص۔ اس کے بارے میں سنت میں آیا ہے کہ اس کا خون رائیگاں ہے۔ تو ناحق عصبیت یا دنیا کے لیے قتال کرنے والے اور اپنی جان، اہل وعیال اور مال کے تحفظ کے لیے لڑنے والے کے مابین یہ فرق ہے!
اس حدیث مبارک میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ قاتل ابدی جہنمی نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسلمان کہا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ فعل کبیرہ گناہوں میں سے تو ہے، لیکن ایسا شخص ملت سے خارج نہیں ہوتا۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔