عاویہ بن قرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت معقل مزنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو انھوں نے ایک تکلیف دہ چیز راستے سے ہٹائی۔ پھر میں نے کوئی چیز دیکھی تو اسے اٹھانے کے لیے جلدی سے اس کی طرف لپکا۔ انھوں نے پوچھا: بھتیجے! تم نے ایسے کیوں کیا؟ میں نے کہا: میں نے آپ کو ایک کام کرتے دیکھا تو میں نے بھی کرلیا۔ انھوں نے فرمایا: میرے بھتیجے! تم نے بہت اچھا کیا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: «جس نے مسلمانوں کے راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹائی، اس کے لیے ایک نیکی لکھ دى جاتی ہےاور جس کی ایک نیکی قبول ہوگئی، وہ جنت میں داخل ہوگیا۔»
اسے امام بخاری نے ’’الادب المفرد‘‘ (حدیث نمبر 593) اور امام طبرانی نے ’’معجم کبیر‘‘ (حدیث نمبر 502) میں روایت کیا ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 6098) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 2305)
حدیث کی مختصر وضاحت
ایک مسلمان کا اپنے مسلمان بھائیوں کی گزرگاہوں کا خیال رکھنا اور اُن چیزوں کو وہاں سے ہٹا دینا جو انھیں نقصان پہنچاسکتی ہوں، یہ جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ اور دخولِ جنت کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ اس حدیث مبارک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے مفاد کی فکرمندی کی عظیم الشان فضیلت کو واضح فرمایا اور بتایا کہ یہ عمل جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔
اس حدیث کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت معقل مزنی رضی اللہ عنہ نے راستے سے ایک اذیت دہ چیز ہٹائی تو معاویہ بن قرہ نے بھی ایسا ہی کیا۔ انھوں نے معاویہ بن قرہ سے اس عمل کی وجہ پوچھی اور پھر انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنایا: «جس نے مسلمانوں کے راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز دور کی ... الخ۔»
’’اذیت دور‘‘ کرنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایسی چیز ہٹادی جائے جو لوگوں کے لیے ضرر رساں ہو، جیسے: پتھر، کانٹا، درخت کا تنا وغیرہ، بلکہ ہر وہ شے جو اُن کے لیے تکلیف واذیت کا باعث بنے اور ان کے لیے خطرہ پیدا کرے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شریعتِ اسلامیہ لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی ترغیب دیتی ہے، حتیٰ کہ ایسے کاموں کا بھی کہتی ہے جو بظاہر معمولی نظر آتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم الشان ہوتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «جس کی ایک نیکی قبول کرلی گئی، وہ جنت میں داخل ہوگا» اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کوئی بھی مخلصانہ نیکی، خواہ وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، اگر خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کی گئی ہو تو جنت میں داخلے کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ قبولیت اللہ تعالیٰ کی رضا اور رحمت کی علامت ہے اور جس سےاللہ راضی ہو، اس کی منزل یقیناً جنت ہے۔ اس لیے حقیقی اعتبار محض عمل کرنا نہیں، بلکہ اس کی قبولیت ہے۔
اس حدیث مبارک سے بالاولیٰ یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اُمت سے معنوی اذیتوں کو دور کرنا، جیسے: گمراہ افکار رکھنے والوں کا ردّ کرنا، ان کی گمراہی سے خبردار کرنا اور دین وعقل کو اُن کے شر سے محفوظ رکھنا مادّی اور حسی اذیتیں دور کرنے سے کہیں بڑھ کر اجر وثواب کا باعث اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلندتر درجہ رکھتا ہے۔