نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو فرماتے: «میں اللہ عظیم کی، اس کے کریم چہرے کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی مردود شیطان سے پناہ چاہتا ہوں۔» تو عقبہ نے کہا: کیا بس اتنا ہی؟ میں نے کہا: ہاں۔ انھوں نے کہا: جب مسجد میں داخل ہونے والا آدمی یہ کہتا ہے تو شیطان کہتا ہے: «اب وہ دن بھر کے لیے میرے شر سے محفوظ کرلیا گیا۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سنن ابوداود (حدیث نمبر 466) اور الدعوات الکبیر از بیہقی (حدیث نمبر 68) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4715) اور مشکاة المصابیح (حدیث نمبر 749)
حدیث کی مختصر وضاحت
یہ مبارک حدیث ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسجد میں داخل ہونے کا طریقہ بتلاتی ہے۔ مسجد وہ مقام ہے جو عبادت وطاعت کی جگہ ہے اور جہاں سکون واطمینان نازل ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے۔
’’اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے‘‘ کا مطلب اللہ تعالیٰ سے وابستگی اور اسی کی طرف رجوع ہے، اس کے جلیل القدر مقام كى عظمت وبلندى بيان کرنے کے لئے، اس کے با كمال صفات سے متصف ہونے کى بنا پر اور اس لئے کہ اس میں اس ذات پر توكل وبھروسہ کرنا ہے جو جود وعطا سے موصوف ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے ’’سلطان‘‘ کے ذریعے پناہ مانگتے تھے۔ ’’سلطان‘‘ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے جو اس کی بادشاہت، عظمت، قہر اور غلبے کو ظاہر کرتی ہے۔ جہاں تک «القدیم» کے وصف کا تعلق ہے تو اس سے مراد وہ ازلی وابدی ذات ہے جس کے وجود کی نہ ابتدا ہے اور نہ انتہا۔
حاصل کلام یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے یہ استعاذہ مشروع فرمایا، تاکہ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کی تعظیم ہو، اسی کی طرف پناہ لی جائے اور شیطان کے شر، اس کے مکر اور وسوسوں سے حفاظت طلب کی جائے جن سے بچاؤ صرف اللہ کی مدد اور اس کی حفاظت کے ذریعے ممکن ہے۔
پھر راوی نے ان سے دریافت کیا جنھوں نے اسے حدیث بیان کی: «کیا بس اتنا ہی؟» یعنی کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہی فرمایا اور مزید کچھ نہیں فرمایا؟ یا یہ کہ کیا بس یہی بات آپ تک پہنچی ہے؟ تو اثبات میں جواب دیا گیا کہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں فرمایا گیا۔
پھر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ذکر کی فضیلت بیان کی کہ جو شخص اسے اخلاص اور یقین کے ساتھ پڑھے گا، وہ دن بھر اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور نگرانی میں رہے گا اور شیطان سے محفوظ رہے گا۔ اس پر رات کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے، یا ’’دن‘‘ سے مراد مطلق وقت ہے جس میں دن اور رات دونوں شامل ہیں۔
یہ حدیث شریف ایک جامع تعوذ پر مشتمل ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی تین عظیم صفات یکجا ہیں، یعنی عظمت، الوجہ الکریم اور سلطان قدیم۔
علاوہ ازیں حدیث مبارک میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ بندہ اپنے رب کے بغیر بے سہارا ہے۔ وہ اپنے دین اور دل کو شیطانی وسوسوں اور ہتھکنڈوں سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد کا ہر لمحہ محتاج ہے۔