رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا پڑھتے تھے: «اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔» میں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم لوگ آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئے تو کیا آپ کو ہمارے سلسلے میں کوئی اندیشہ رہتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ہاں، لوگوں کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں، وہ انھیں جیسے چاہتا ہے، الٹتا پلٹتا رہتا ہے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت انس رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 12107) اور سنن ترمذی (حدیث نمبر 2140، الفاظ اسی کے ہیں) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 7987) اور مشکاۃ المصابیح (حدیث نمبر 102)
حدیث کی مختصر وضاحت
یہ حدیث شریف احوالِ قلب کی اہمیت وحقیقت کو نمایاں کرتی ہے اوراس بات کو کہ دل اکیلے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ جیسے چاہے، انھیں پھیر دیتا ہے؛ ایمان سے کفر کی طرف، اطاعت سے معصیت کی طرف، بیداری سے غفلت کی طرف، یا اس کے الٹ۔ چنانچہ بندے کی نجات صرف اللہ تعالیٰ کی حفاظت، اُس کی توفیق اور اور اس کے ثابت قدم رکھنےہی سے ممکن ہے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعا کیا کرتے تھے کہ الله تعالى آپ کے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھےتو حضرت انس رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا اور عرض گزار ہوئے: ہم تو آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لا چکے ہیں تو پھر ہمیں کس بات کا خوف ہے؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب آیا، تاکہ دلوں میں دائمی خشیت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سچی عاجزی پیدا ہو، تاکہ کوئی مومن اپنے ایمان پر مغرور نہ ہو اور نہ ہدایت کے بعد اپنے دل کے اُلٹ جانے سے بے پروا ہوجائے۔
چنانچہ اس حدیث کے اصل معنی یہ ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حالانکہ آپ معصوم تھے، ــ یہ دعا باربار کرتے تھے جس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کا اظہار اور اپنی اُمت کی تعلیم وتربیت تھا کہ وہ اپنے رب کے نصرت واعانت اور اُس کے قائم رکھے بغیر بالکل بے بس ہیں۔ اس لیے مومن پر لازم ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کرے اور استقامت کی دعا کو اپنا معمول بنائے کیونکہ دل رحمان کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں، وہ جیسے چاہے، انھیں پھیردیتا ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے: «اُن فتنوں سے پہلے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح (چھا جانے والے) ہوں گے، (نیک) اعمال کرنے میں جلدی کرو۔ (ان فتنوں میں) صبح کو آدمی مومن ہوگا اور شام کو کافر، یا شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کافر۔ وہ اپنا دین (ایمان) تھوڑے سے دنیوی سامان کے عوض بیچتا ہوگا۔ »
اس حدیث مبارک میں اللہ تعالیٰ کے ایک اضافی نام کا اثبات ہے اور وہ ہے: ’’مُقَلِّبُ القلوب‘‘ «دلوں کو پلٹنے والا۔ »
اسی طرح اللہ جل وعلا کے لیے صفتِ’’اصابع‘‘ (انگلیوں) کا اثبات حقیقی ہے جیسے اس کی جلالت وعظمت کے شایانِ شان ہے۔ ہم اسے بغیر کسی تحریف وتعطیل اور بغیر تکییف وتمثیل کے ویسے ہی ثابت کرتے ہیں جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔
پس یہ حدیث مبارک مسلمان کو اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ وہ دعا کو لازم پکڑے اور باربار اللہ تعالیٰ سے اس کے دین پر استقامت کی التجا کرتا رہے، یہاں تک کہ اپنے رب سے جاملے۔ یہ فلاح وکامیابی کے سب سے بڑے اسباب میں سے ہے۔