منگل 26 صفر 1448 | 2026-08-11

A a

«تم میں سے کوئی بھی ایک جوتا پہن کر نہ چلے۔ یا دونوں کو اُتار لے، یا دونوں کو پہن لے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 5856) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 2097) میں مروی ہے۔ (الفاظ صحیح بخاری کے ہیں)


حدیث کی مختصر وضاحت


یہ امر شریعت کی جامعیت میں سے ہے کہ وہ صرف باطن کی اصلاح پر اکتفا نہیں کرتی، بلکہ ظاہر کی درستی پر بھی خاص توجہ دیتی ہے۔ اسی لیے شریعت میں ایسے آداب کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں جو انسان کے لباس اور چال ڈھال میں اس کے وقار اور تمکنت کو یقینی بناتے ہیں۔ انھی میں سے ایک ادب یہ ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوتا پہن کر چلنے سے منع فرمایا ہے۔
اس ممانعت کی حکمت بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ ایک جوتا پہننا شیطانی ہیئت کذائی ہے، جیساکہ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے: «بے شک شیطان ایک جوتے میں چلتا ہے۔» یہ انداز بدنما اور ناموزوں ہے اور باوقار وباعزت لوگوں کے طور رطریقے کے خلاف ہے۔ ایسا شخص دیکھنے والوں کی نظر میں ناقص عقل، یا کم عزت کا حامل لگ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ایک جوتا پہننے سے ٹھوکر لگنے اور گرنے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ مزید برآں ایسا طرزِ عمل دراصل ایک پاؤں کو دوسرے پر فضیلت دینے کے مترادف ہے، حالانکہ شریعت عدل اور اعتدال پر قائم ہے۔
اکثر علماء نے اس ممانعت کو کراہتِ تنزیہی پر محمول کیا ہے جو ضرورت یا عذر کی صورت میں ختم ہوجاتی ہے۔
حدیث مبارک میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام ایک مسلمان کے طرزِ عمل اور اس کی ظاہری شکل وصورت کو سنوارنے کا بھی اہتمام کرتا ہے، تاکہ ظاہر وباطن کے اعتبار سے اس کی پوری شخصیت توازن ووقار اور حسنِ اعتدال کا نمونہ بن جائے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔