جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: عورتوں میں اچھی عورت کون سی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وہ عورت جو اپنے شوہر کو خوش کردے جب وہ اسے دیکھے، اس کا حکم بجا لائے جب وہ کوئی کام کہے اور اپنی ذات اور اپنے مال کے سلسلے میں شوہر کی ایسی مخالفت نہ کرے جو اسے ناپسند ہو۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسند احمد (حدیث نمبر 9587، 9658)، سنن نسائی (حدیث نمبر 3231) اور سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 13477) میں مروی ہے۔ (الفاظ سنن نسائی کے ہیں)
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 3298) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 1838)


حدیث کی مختصر وضاحت


اسلام نے نکاح کرنے پر ابھارا ہے اور اس کی ترغیب دی ہے، چنانچہ اسلام نے وہ صفات بھی واضح فرمائی ہیں جنھیں عورت میں تلاش رکھنا چاہیے، تاکہ وہ نیک اور صالحہ بیوی ثابت ہو۔ انھی میں سے ایک وہ حدیث ہے جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: «کون سی عورت سب سے بہتر ہے؟» یعنی کون سی عورت بہترین اخلاق کی مالک اور اپنے شوہر کے لیے زیادہ بابرکت ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وہ عورت جو شوہر کو دیکھنے پر خوشی دے۔» چنانچہ صالحہ عورت کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کے دل کو سرور وسکون سے بھردے۔ اور وہ یوں کہ جب وہ اسے دیکھے تو اس کی خوشنما ہیئت، نرم مزاجی اور اس کے اخلاقی جمال سے مسرور ہو اور اس میں اسے اُنسیت اور اطمینان ملے۔
دوسری صفت یہ ہے کہ وہ شوہر سے بحث مباحثہ اور اس کی نافرمانی نہ کرے، بلکہ اس کے حکم کی تعمیل یہ سمجھتے ہوئے کرے کہ یہ رب تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے شوہر کے حقوق کی ادائیگی ہے۔
اور تیسری صفت یہ ہے کہ اگر شوہر اس سے قربت کی خواش کرے تو اپنے آپ کو اس خواہش سے نہ روکے۔ اسی طرح شوہر کی غیرموجودگی میں بھی اپنی عفت وعصمت کی حفاظت کرے اور اپنی عزت وناموس کو قائم رکھے۔ علاوہ ازیں اس کے مال کی نگہبانی کرے، نہ کہ اس میں اس کی اجازت اور خوشی کے بغیر خرچ کرتی رہے، سوائے ایسی صورت کے جو ضروریات سے تعلق رکھتی ہو۔
یوں یہ تین اوصاف مل کر ایک سراپا خیر بیوی کی جامع تصویر پیش کرتے ہیں، یعنی دیکھنے میں مسرت، اطاعت میں سہارا اور غیرحاضری میں امانت داری۔ ایسی عورت کے ساتھ زندگی خوشگوار بن جاتی ہے، گھر مضبوط بنیاد پر قائم ہوتا ہے اور ازدواجی خوش بختی پوری شان کے ساتھ حاصل ہوتی ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔