رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی اچھی بات دیکھتے تو فرماتے: «تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں جس کی نعمت سے تمام نیک کام پایۂ تکمیل کو پہنچتے ہیں۔» اور جب کوئی ناپسندیدہ بات دیکھتے تو فرماتے: «ہر حال میں اللہ ہی کی تعریف ہے۔»
یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 3803)، معجم اوسط از طبرانی (حدیث نمبر 6663)، مستدرک حاکم (حدیث نمبر 1840)، شعب الایمان از بیہقی (حدیث نمبر 4065) اور عمل الیوم واللیلۃ از ابن سنّی (حدیث نمبر 378) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4727) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 265)
حدیث کی مختصر وضاحت
نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ وہ ہر حال میں اپنے رب کا ذکر کرتے، اس کے سامنے سراپا تسلیم ورضا رہتے اور اس کے فیصلوں پر راضی رہتے، خواہ پسندیدہ ہوتے یا ناپسندیدہ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ایسا دیکھتے جو آپ کو پسند ہوتا تو آپ فرماتے: «تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں جس کی نعمت سے تمام نیک کام پایۂ تکمیل کو پہنچتے ہیں۔» یعنی ہر نیک قول ونافع فعل، خواہ فوری ہو یا آئندہ کے لیے، دراصل اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی طرف سے آسانی ہی سے پایۂ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ یہ حمد وتعریف شکر گزاری اور نعمت کے اعتراف کے لیے ہے۔
اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ذاتِ گرامی، مال یا گھر والوں کے حوالے سے کوئی ناپسندیدہ امر پیش آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: «ہر حال میں اللہ ہی کی تعریف ہے۔» اس لیے بسااوقات اللہ تعالیٰ کا فیصلہ بظاہر ناگوار محسوس ہوتا ہے، لیکن درحقیقت اس میں کوئی پوشیدہ مصلحت ہوتی ہے جسے بندہ نہیں سمجھ پاتا کیونکہ اللہ تعالیٰ حکمت اور علم والا ہے۔ وہ جو بھی فیصلہ فرماتا ہے، اُس میں بندوں کے لیے خیر وبھلائی ہی ہوتی ہے۔
اس حدیث مبارک سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب تعالیٰ کا کس قدر کمالِ ادب کیا کرتے تھے، چنانچہ دیکھیے کہ اچھے حال میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحتاً نعمت کو اللہ تعالیٰ کا فضل قراردیا اور کہا: «تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں جس کی نعمت سے تمام نیک کام پایۂ تکمیل کو پہنچتے ہیں۔» لیکن ناپسندیدہ چیز دیکھ کر بس یہ کہا: «ہر حال میں اللہ ہی کی تعریف ہے۔» چنانچہ مکروہ امر کو براہِ راست اللہ سے منسوب نہیں کیا جس طرح نعمت کے بارےمیں صراحتاً فرمایا، حالانکہ سب کچھ اللہ ہی کی قضا وقدر سے ہوتا ہے۔ یہ درحقیقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ جل وعلا کے ساتھ کمالِ ادب ہے۔