بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«تُو قیامت کے دن اللہ کے ہاں سب سے بدتر دو رُخے شخص کو پائے گا جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے آتا ہے اور دوسروں کے سامنے دوسرے رخ سے جاتا ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 6058) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 2526) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


یہ حدیث شریف بداخلاقی کے ایک نہایت خطرناک اور قبیح وصف کو بیان کرتی ہے اور وہ ہے: دوغلا پن یا دو رُخا ہونا، یعنی ایسا شخص جو ہر گروہ کے سامنے وہ کچھ ظاہر کرتا ہے جو کسی دوسرے گروہ کے خلاف ہوتا ہے۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ دورُخا آدمی اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ذلیل وخوار ہے اور قیامت کے دن اس کا مرتبہ سب سے پست ہوگا کیونکہ وہ اُن منافقین کی سی روش اختیار کرتا ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’اور جب وہ اُن لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لائے تو کہتے ہیں: ہم ایمان لے آئے اور جب اپنے شیطانوں کی طرف اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں: بے شک ہم تمھارے ساتھ ہیں۔‘‘ (البقرۃ: 14) اس وصف کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
دوغلے پن کی اصل خرابی یہ ہے کہ ایسا شخص جھوٹ اور فریب لے کر چلتا ہے، چنانچہ اہلِ باطل سے ملتا ہے تو ان کے باطل پر خوشی اور رضامندی ظاہر کرتا ہے اور اہلِ حق کے پاس بیٹھتا ہے تو ان کے حق پر مسرت کا اظہار کرتا ہے۔ وہ ہر گروہ کے مطابق رنگ بدل لیتا ہے؛ کبھی اپنی جان کی سلامتی کے لیے، یا دنیاوی مفاد کے لیے، یا لوگوں کے مابین فساد وخرابی پیدا کرنے کے لیے۔
ایسا طرزِ عمل بالصراحت عملی نفاق ہے، اسی لیے اس کا مرتکب اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق میں سے شمار کیا گیا ہے۔ سنن ابوداود میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے: «جو شخص دنیا میں دو زبانوں والا ہوگا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی دو زبانیں بنائے گا۔» یہ سخت وعید اس جرم کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
البتہ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مذموم ’’مداهنت‘‘ اور محمود ’’مدارات‘‘ کے درمیان فرق ہے، چنانچہ ’’مداهنت‘‘ یہ ہے کہ باطل پر قائم شخص کو ایسی بات سے خوش کیا جائے جو اس کے باطل کو تقویت دے۔ اور یہ حرام ہے۔ جب کہ ’’مدارات‘‘ یہ ہے کہ اصلاح ذات البین اور قربت پیدا کرنے کے لیے نرم بات کی جائے اور فریقین کے اچھے پہلو ایک دوسرے کے لیے بیان کیے جائیں۔ تو یہ نہ صرف جائز ہے، بلکہ شرعی طور پر مطلوب ہے۔
چنانچہ یہ حدیث مبارک مسلمان کو سچائی پر ڈٹے رہنے کی تعلیم اور نفاق جیسے مہلک مرض سے خبردار کرتی ہے جو دلوں میں فساد پیدا کرتا ہے اور تعلقات کو پارہ پارہ کردیتا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔