«نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص کے بارے میں کوئی بات پہنچتی تو آپ یوں نہ فرماتے: ’’فلاں کو کیا ہوا کہ وہ ایسے کہتا ہے؟‘‘ بلکہ یوں فرماتے: ’’لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو ایسے اور ایسے کہتے ہیں؟‘‘»
یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سنن ابوداود (حدیث نمبر 4788)، شعب الایمان از بیہقی (حدیث نمبر 7745) اور شرح مشکل الآثار از طحاوی (حدیث نمبر 5881) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 4692) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 2064)
حدیث کی مختصر وضاحت
یہ حدیث لوگوں کی غلطیوں کی اصلاح کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلقِ عظیم کا ایک نہایت روشن پہلو اُجاگر کر رہی ہے۔
چنانچہ اس کی وضاحت یہ ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شخص کے ناپسندیدہ قول یا فعل کی اطلاع ملتی تو آپ اُسی شخص کا نام نہیں پکارا کرتے تھے، بلکہ (عمومی انداز میں) فرماتے: «کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ... الخ۔» اس طرح غلطی پر تنبیہ اور اس کی اصلاح کا مقصد بھی پورا ہوجاتا اور غلطی کے مرتکب کو لوگوں کے سامنے شرمندگی اور فضیحت بھی نہ اُٹھانا پڑتی۔
اس اندازِ اصلاح میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں، مثلاً: اس میں پردہ پوشی کی تربیت ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں کے ٹوٹنے یا بیزاری سے حفاظت ہے، امت کے لیے تعلیم ہے کہ اصلاح نرمی ہی سے ممکن ہے اور وہ یوں کہ خطاکار کی تشہیر اور اس کی رسوائی کے بغیر غلطی بھی درست ہوجائے اور سب لوگ اس سے سبق بھی حاصل کرلیں۔
اس اسلوب سے دہرا فائدہ حاصل ہوتا ہے: پہلا یہ خطاکار کی اصلاح ہوتی ہے، دوسرا یہ کہ دیگر سامعین کو عبرت اور سبق حاصل ہوتا ہے، تاکہ وہ ایسی لغزش سے بچ جائیں۔
چنانچہ یہ حدیث مبارک اس بات کی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق کامل تھا، تعلیم حکمت سے لبریز تھی اور یہ کہ غلطیوں کی اصلاح میں نرمی سخت کلامی اور تلخ رویے سے کہیں زیادہ موثر اور نفع بخش ہے۔