جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«جس نے اپنے بھائی کی طرف لوہے (کے کسی تیز دھار ہتھیار) سے اشارہ کیا تو فرشتے اس پر لعنت بھیجیں گے، حتیٰ کہ وہ اس کام کو ترک کردے، خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو!»


یہ حدیث بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 2616) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


شریعتِ اسلامیہ نے انسانی جان کی حفاظت اور اس کے بچاؤ کو یقینی بنایا ہے اور اسے دین کے بنیادی مقاصد اور سب سے عظیم الشان اصولوں میں شمار کیا ہے۔ اس کے دلائل میں سے ایک واضح دلیل نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ ’’جس نے اپنے بھائی کی طرف لوہے (کے کسی تیز دھار ہتھیار) سے اشارہ کیا تو فرشتے اس پر لعنت بھیجیں گے۔‘‘
’’لعنت‘‘ کا مطلب ہے: اللہ کی رحمت سے دُور اور محروم کردیا جانا۔ فرشتے اس شخص پر اس وقت تک لعنت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنا ہتھیار نہ رکھ دے، خواہ مشار الیہ (جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے) اس کے قریب ترین رشتہ داروں میں سے ہی کیوں نہ ہو! مثلاً: اس کا سگا بھائی۔ یہ شدتِ تنبیہ اور سخت وعید اس لیے ہے کہ ایسا عمل نادانستہ طور پر جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، معاذ اللہ۔
اس مقام پر لعنت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ فعل سخت حرام ہے اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے، خواہ کسی نے اسے سنجیدگی کے ساتھ کیا ہو، یا مذاق میں۔ سنجیدہ شخص تو حقیقتاً بُرا اِرادہ رکھتا ہے، جب کہ مذاق کرنے والا بھی ایک مسلمان کو خوف ودہشت میں مبتلا کردیتا ہے جس سے شریعت نے بہرحال منع فرمایا ہے، خواہ یہ ازراہِ مزاح ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ حرام میں مبتلا کرنے کا ذریعہ ہے۔ جیساکہ دوسری روایت میں آیا ہے: «شاید شیطان اس کے ہاتھ پر جھپٹ پڑے تو وہ آگ کے گڑھے (دوزخ) میں جا گرے!» یعنی اس کا ہتھیار بے ارادہ اس کے ہاتھ سے حرکت کرجائے اور وہ اپنے بھائی کو نقصان پہنچادے، یا اسے قتل کردے تو وہ یوں ایک بہت ہی بڑے گناہ میں جاپڑے۔
تو اسلام نے صرف انسانی قتل ہی کو حرام قرار نہیں دیا، بلکہ اس تک پہنچانے والے تمام اسباب وذرائع کا بھی سدباب کیا ہے، خواہ ازراہِ مزاق ہی کیوں نہ ہو! تاکہ مسلمان کی حرمت محفوظ رہے اور معاشرہ دشمنی اور خوں ریزی کے اسباب سے بچا رہے۔
حدیثِ مبارک میں سخت وعید اور بے پروائی سے اسلحہ استعمال کرنے کے معاملے پر شدید تنبیہ ہے۔ علاوہ ازیں یہ بتایا گیا ہے کہ اسلحے کے ساتھ محض اشارہ کرنا ایسا کبیرہ گناہ ہے جو لعنت کا مستوجب ہے تو آپ خود اندازہ کرلیں کہ نفسِ انسانی کو قتل کرنا کس قدر سنگین جرم ہوگا؟!


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔