جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھانے لگے اور لوگ ان سے نیچے تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے دونوں ہاتھ پکڑ کر انھیں پیچھے لانے لگے۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی پیچھے ہٹتے گئے، حتیٰ کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے انھیں نیچے اتار دیا۔ جب حضرت عمار رضی اللہ عنہ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا کہ «جب کوئی شخص کسی قوم کو نماز پڑھائے تو وہ ان کے مقام سے اونچی جگہ پر کھڑا نہ ہو» حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اسی لیے جب آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں آپ کے ساتھ پیچھے ہٹتا چلا گیا۔


یہ حدیث بروایت حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سنن ابوداود (حدیث نمبر 598)، سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 5441) اور شرح السنۃ از بغوی (حدیث نمبر 830) میں مروی ہے۔
نیز ملاحظہ ہو صحیح ابوداود (حدیث نمبر 611) اور اِرواء الغلیل (حدیث نمبر 544)


حدیث کی مختصر وضاحت


دلائلِ شریعت اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی ظاہری حالتوں اور مقتدیوں کے آگے امام کے کھڑے ہونے کی جگہ میں توازن کی بابت بہت اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ اس کی ایک مثال حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ جب وہ مدائن میں تھیں اور لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو ایک بلند جگہ پر کھڑے ہوگئے اور مقتدی نسبتاً نیچے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر انھیں نیچے لے آئے اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد دلایا کہ «جب کوئی شخص کسی قوم کو نماز پڑھائے تو وہ ان کے مقام سے اونچی جگہ پر کھڑا نہ ہو» اس پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا کہ جب آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں نے اسی لیے تو آپ کی اتباع کی۔ یعنی وہ حکمِ نبوی پہلے سے جانتے تھے، مگر بھول گئے تھے اور یاددہانی پر فوراً عمل کیا۔
اس ممانعت کا مقصود یہ ہے کہ امام کا مقتدیوں سے بلند جگہ پر کھڑا ہونا درست نہیں کیونکہ اس میں اہلِ کتاب سے مشابہت ہے جو اپنے مذہبی پیشواؤں کو خاص مقام دے کر ممتاز کرتے ہیں۔ ممانعت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایسا طرزِ عمل تکبر یا فخر کے جذبات بھی ابھار سکتا ہے۔ البتہ علماء نے اس ممانعت کو کراہت پر محمول کیا ہے، حرمت پر نہیں کیونکہ صحیحین میں یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ منبر پر کھڑے ہوکر نماز ادا کی، تاکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو نماز کے افعال اور طریقہ عملاً سکھا سکیں۔
البتہ مقتدی کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ امام سے اونچی جگہ پر ہو، جیسے: مسجد کی چھت، یا بالائی منزل میں نماز پڑھے۔ یہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایسے نماز پڑھنا بھی منقول ہے۔
حدیث مبارک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر نماز کی کسی مصلحت کی بنا پر ایک دو قدم چلنا پڑیں تو اس سے نماز باطل نہیں ہوتی۔ اسی طرح جو شخص قدرت وطاقت رکھتا ہو، اسے آگے بڑھ کر خرابی کو دُور کردینا چاہیے۔ علاوہ ازیں اس واقعے میں اتباعِ سنت کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا شدید اہتمام بیان ہوا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔