بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرلیتے تو یہ ذکر پڑھنے تک ہی بیٹھتے تھے: ’’اے اللہ! تُو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے، تُو بابرکت ہے اے جلال والے اور عزت بخشنے والے!‘‘»


یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح مسلم (حدیث نمبر 592) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی پیروی کا غیرمعمولی شوق رکھتے تھے۔ اسی شوق کا ایک مظہر نماز کے افعال کی اتباع بھی ہے۔ یہاں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرلیتے تو صرف اتنی دیر بیٹھتے جتنی دیر میں یہ ذکر فرما لیتے۔
مقصود یہ بتانا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سلام کے بعد طویل بیٹھک اختیار نہ کرتے، بلکہ حدیث میں مذکور ذکر پڑھنے ہی پر اکتفا فرماتے۔ ہاں، اگر پیچھے خواتین نماز ادا کر رہی ہوتیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں مَردوں کے ساتھ اختلاط سے بچانے کے لیے کچھ دیر توقف فرماتے، جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے۔
اس عظیم الشان دعا میں امت کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ نماز کے بعد ذکر کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی تمجید (بزرگی بیان کرنے) سے کی جائے، چنانچہ «تُو ہی سلام ہے» کا مطلب ہے: کمالِ مطلق سے متصف، ہر نقص اور عیب سے پاک۔ «اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے» یعنی تُو ہی اپنے بندوں کے لیے آفات اور شرور سے سلامتی کا منبع وسرچشمہ ہے اور تجھ ہی سے امن ونجات طلب کی جاتی ہے۔ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ اے اللہ! میری نماز کو نقص اور ردّ ہونے سے محفوظ فرما۔ «تُو بابرکت ہے» یعنی تیری برکتیں اور خیرات بہت ہی زیادہ ہیں۔ «اے جلال والے اور عزت بخشنے والے!» یعنی اے وہ کہ جس کے لیے عظمت وکبریائی اور فضل واحسان ہے! تُو ہی اس کا مستحق ہے کہ تجھ سے ڈرا جائے، تیری تعظیم بجالائی جائے اور تیری تعریف وثنا کی جائے!
چنانچہ یہ حدیث مبارک سلام پھیرنے کے بعد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقۂ عمل کو بھی واضح کرتی ہے اور ایک ایسی جامع ذکر کی تعلیم بھی دیتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے ساتھ اس کی تعریف وثنا اور اسی اکیلے سے سلامتی مانگنے کو متضمن ہے۔ اسی طرح یہ ذکر نمازی کو یاد دلاتا ہے کہ نماز محض سلام پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس ذکر کے ذریعے کامل ہوتی ہے جو بندے کو اس کے رب سے جوڑتا ہے اور اللہ کی رضا وبرکت کو کھینچ لاتا ہے۔
اس حدیثِ مبارک میں بیان ہوا ہے کہ نماز کے بعد مذکورہ ذکر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ثنا وتعریف کہنا مستحب ہے۔ اسی طرح امام سلام کے بعد مقتدیوں کی طرف پیٹھ کیے ہوئے زیادہ دیر نہ بیٹھے، بلکہ یہ دعا پڑھنے کے بقدر بیٹھے اور پھر نمازیوں کی طرف پھر کر اپنا چہرہ ان کی طرف کرلے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔