جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«جب تم میں سے کوئی اپنا حج پورا کرلے تو وہ اپنے گھر کو روانہ ہوجائے کیونکہ یہ چیز اس کے زیادہ اجر کا باعث ہے۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مستدرک حاکم (حدیث نمبر 1753)، سنن دارقطنی (حدیث نمبر 2790) اور سنن کبریٰ بیہقی (حدیث نمبر 10363) میں مروی ہے۔ (الفاظ مستدرک حاکم کے ہیں)
مذکورہ کتب میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں: «تو وہ (واپسی کے) سفر میں جلدی کرے۔»
نیز ملاحظہ ہو صحیح الجامع الصغیر (حدیث نمبر 732) اور سلسلہ احادیث صحیحہ (حدیث نمبر 1379)


حدیث کی مختصر وضاحت


شریعت نے دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی بہت تاکید فرمائی ہے، بالخصوص اہل وعیال کے حقوق کی بہت تاکید فرمائی جو کہ متعدد اور متنوع ہیں۔ انھی میں سے ایک پہلو سفر سے متعلق ہے، جیساکہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جب تم میں سے کوئی اپنا حج پورا کرلے تو وہ اپنے گھر کی طرف لوٹ جائے ... »
خواہ یہ سفر طاعت کا ہو، جیسے: حج یا عمرہ ہے۔ یا کوئی مباح اور جائز سفر ہو۔ بندے کو چاہیے کہ اپنے معاملات نمٹانے کے بعد وہ لمبا قیام نہ کرے اور جلد اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جائے۔ جلدی لوٹ جانے میں بہت سے فوائد ہیں، مثلاً: جمعہ وجماعت میں حاضری، تھکن اُتار کر عبادت کے لیے تر وتازگی اور قوت کا حصول، اہلِ خانہ کی خوشی کا سامان اور ان کے حقوق کو ضایع ہونے سے بچانا۔ اس لیے جلد واپسی گھر سے باہر قیام کی غیرضروری طوالت کے مقابلے میں زیادہ ثواب اور بڑے اجر کا باعث ہے۔
یہ حدیث مبارک اس حقیقت پر بھی دلالت کرتی ہے کہ شریعت نے اللہ تعالیٰ کے حق اور بندوں کے حقوق میں توازن قائم کیا ہے، چنانچہ سفر سے فراغت کے بعد اہلِ خانہ کی طرف واپسی میں زیادہ اجر رکھا کیونکہ اس میں عبادت اور معاشرت دونوں کے دینی مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی ہے کہ اہلِ خانہ کے حقوق کو ضایع کرنا نہایت سنگین گناہ ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔