جمعرات 6 ذو القعدة 1447 | 2026-04-23

A a

«نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرب وتکلیف میں مبتلا ہوجاتے اور آپ کا چہرہ بجھ سا جاتا۔»


یہ حدیث بروایت حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 2334) میں مروی ہے۔


حدیث کی مختصر وضاحت


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال جاننے اور ہر معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنے کا شوق اور شدید خواہش سب سے زیادہ تھی۔ انھی احوال میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ وحی کے نزول کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت کو بغور ملاحظہ کرتے تھے، جیساکہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ «جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ پر کرب اور سخت پریشانی طاری ہو جاتی ... الخ۔» یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تنگی اور گھبراہٹ محسوس ہوتی۔ اس کی وجہ نزولِ وحی کی سختی اور اس کا بار اور ذمہ داری اُٹھانے کی دشواری تھی، یا اس لیے کہ وحی میں اللہ تعالیٰ کے احکام، وعیدیں اور تنبیہات ہوا کرتی تھیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حقوقِ عبودیت اور شکرانِ نعمت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے بارے میں خوف محسوس فرماتے اور گناہ گاروں پر اللہ کے عذاب کے اندیشے سے رنجیدہ ہو جاتے، حتیٰ کہ جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنى طرف کى جانی والى وحى كو جان نہ لیتے آپ پر غم واندوہ چھایا رہتا۔
اور جہاں تک الفاظِ روایت ہیں: «آپ کا چہرہ بجھ سا جاتا» یعنی چہرے کا رنگ متغیر ہوجاتا اور اس پر گدلاپن آجاتا۔ ’’الربد‘‘ کے معنی ہیں: سفیدی کا سیاہی مائل ہوجانا۔ یہ کیفیت وحی کی عظمت اور اس کی ہیبت کی وجہ سے ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اس حقیقت کو قرآن میں بیان فرمایا ہے: ’’یقیناً ہم ضرور تجھ پر ایک بھاری کلام نازل کریں گے۔‘‘ (المزمل: ۵)
نزولِ وحی کی مختلف صورتیں ہوا کرتی تھیں اور ان میں سے یہ کیفیت سب سے زیادہ شاق گزرتی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس كى شدت كو بيان كرتے ہوئے کہتى ہیں: «میں نے خود دیکھا کہ سخت سردی کے دن بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو وحی ختم ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتھے سے پسینے کے قطرے بہہ نکل رہے ہوتے تھے۔»
وحی کی ایک اور صورت یہ ہوا کرتی تھی کہ حضرت جبریل انسانی شکل میں تشریف لاتے۔ وہ اکثر اوقات جلیل القدر صحابی حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت اختیار کیا کرتے تھے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔