بدھ 5 ذو القعدة 1447 | 2026-04-22

A a

«حضرت سُلیک غطفانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعے کے دن(اس وقت ) آئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو وہ بیٹھ گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’اے سلیک! اُٹھ کر دو رکعتیں پڑھو اور ان میں اختصار سے کام لو۔‘‘ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی جمعے کےدن اس وقت آئے جب امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھے اور ان میں اختصار سے کام لے۔‘‘»


یہ حدیث بروایت حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 930) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر 875) میں مروی ہے۔ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔


حدیث کی مختصر وضاحت


نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان کی دینی ودنیاوی بھلائی کی ہر بات سکھانے کی شدید خواہش رکھتے تھے۔ انھی واقعات میں سے یہ بھی ہے ایک بار حضرت سُلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوئے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، چنانچہ وہ تحیۃ المسجد پڑھے بغیر بیٹھ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھیں اور انھیں مختصر رکھیں، تاکہ خطبہ سننے کی فضیلت کو پاسکیں۔
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم صرف حضرت سُلیک رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص نہ رہنے دیا، بلکہ عمومی وضاحت کے ساتھ فرمایا: «جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن اس وقت آئے جب امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھے … الخ۔» اس ارشاد سے حکم کی عمومیت ظاہر ہوئی اور یہ وہم دُور ہوگیا کہ یہ حکم صرف حضرت سُلیک رضی اللہ عنہ ہی کے ساتھ خاص ہے، چنانچہ اس سے تحیۃ المسجد کی مشروعیت معلوم ہوئی کہ امام کے خطبے کے دوران جو شخص بھی مسجد میں داخل ہو تو وہ بیٹھنے سے پہلے دو مختصر رکعتیں پڑھے۔
ان دو رکعتوں کے حکم کی بابت علماء کی رائے مختلف ہے۔ بعض كا کہنا ہے کہ یہ واجب ہیں، حتیٰ کہ خطبے کے دوران بھی۔ اس موقف کے حاملین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی حکم سے استدلال کیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سُلیک غطفانی رضی اللہ عنہ کو دیا تھا کہ وہ کھڑے ہوں اور دو رکعتیں پڑھیں۔ لیکن جمہور علماء نے کہا کہ یہ سنتِ موکدہ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر صرف پانچ نمازوں کے علاوہ کچھ اور فرض نہیں کیا۔ اور انھوں نے حضرت سُلیک رضی اللہ عنہ کی حدیث کو استحباب پر محمول کیا ہے، تاکہ تمام دلائل میں جمع وتطبیق ہوجائے۔
البتہ اگر کوئی تب داخل ہو جب امام خطبے کے آخری حصے میں ہو اور غالب گمان یہ ہو کہ اگر وہ تحیۃ المسجد پڑھے گا تو امام کے ساتھ تکبیرِ تحریمہ رہ جائے گی تو ایسا شخص تحیۃ المسجد نہ پڑھے، بلکہ انتظار کرے، حتیٰ کہ جماعت کھڑی ہو تو وہ نماز میں شامل ہوجائے۔
اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوتے ہی دو مختصر رکعتیں پڑھنا مستحب ہے، خواہ خطبے کے دوران ہی ہو۔ اسی طرح یہ دو رکعتیں پڑھنے سے پہلے بیٹھ جانا مکروہ ہے۔ مزید برآں یہ دو رکعتیں بھول کر یا لاعلمی میں بیٹھ جانے سے ساقط نہیں ہوتیں۔
علاوہ ازیں ضرورت کے وقت خطیب کا سامعین سے کلام کرنے کا جواز معلوم ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ خطیب اگر کسی نمازی کو مخاطب کرے تو وہ اسے جواب دے سکتا ہے، یہ اُس لغو کلام میں شامل نہیں ہے جس سے روکا کیا گیا ہے۔


متعلقہ احادیث

غلطی کی اطلاع دیں۔